سانحہ گُل پلازہ: ایک دکان سے 20 سے زائد لاشیں برآمد، ہلاکتیں 50 تک پہنچ گئیں

ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا ہے لاشیں میزنائن کی ایک دکان سے ملی ہیں۔
اپ ڈیٹ 21 جنوری 2026 11:21pm

کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ کے ملبے سے بیس سے زائد لاشیں ملنے کی اطلاع ملی ہے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق لاشیں میزنائن فلور پر واقع کراکری کی ایک دکان میں موجود تھیں۔ انسانی اعضا کتنے افراد سے تعلق رکھتے ہیں، اس کا تعین کیا جا رہا ہے، تاہم متضاد اطلاعات کے مطابق یہ باقیات 30 افراد کی لاشوں کی ہو سکتی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ دکان سے لاشیں نکالنے کی کوششیں تاحال جاری ہیں جب کہ برآمد ہونے والی باقیات کو ضابطے کی کارروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کردیا گیا۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق اس وقت یہ کنفرم نہیں کیا جا سکتا کہ لاشیں مکمل حالت میں ہیں یا نہیں۔

ڈی سی ساؤتھ نے میڈیا کو بتایا کہ میزنائن فلور سے انسانی اعضا ملے ہیں، یہ انسانی اعضا 20 سے 25 انسانوں کے ہوسکتے ہیں۔ کتنی لاشیں ہیں اس وقت بتا سکتا ہوں جب وہ سالم ملیں۔ لاشوں کی باقیات اسپتال منتقل کررہے ہیں۔

ڈی سی ساؤتھ کے مطابق ریکوری آپریشن جاری ہے، ہم نے پیچھے سے راستہ بنا کر لاشیں تلاش کیں، میزنائن فلور پر ریسکیو کارروائی کر رہے ہیں، اطلاع تھی کہ کراکری کی دکان میں لوگ ہیں۔ گل پلازہ میں آگ لگنے سے پہلے کراکری دکان رش تھا۔

اسنارکل اور کرین کی مدد سے ریسکیو ورکرز بالائی منزل کی کھڑکی توڑ کر اندر داخل ہوئے اور انسانی اعضا کو تھیلی میں رکھ کر نیچے اتارا۔

بالائی منزل پر سرچ آپریشن کے دوران دکان سے تجوری بھی ملی، جسے ریسکیو ورکرز نے متعلقہ سرکاری حکام کے حوالے کیا۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سعید نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ گل پلازہ سانحے میں ایک جاں بحق شخص کی شناخت سی این آئی سی کی بنیاد پر ہوئی۔

پولیس سرجن کے مطابق 5 روز میں 51 افراد کی باقیات ڈی این اے کے لیے بھجوائی گئیں، جن میں سے اب تک صرف 15 افراد کی شناخت ہوسکی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حادثے میں جاں بحق افراد کے تقریباً 28 ڈی این اے سیمپلز محفوظ ہیں، ڈی این اے میچنگ کے عمل میں وقت درکار ہے، باڈی جب زیادہ جل جائے تو ڈی این اے کرنا سائنٹفک کام ہے۔

پولیس سرجن کا کہنا تھا کہ ملبے سے اب لاشوں کے بجائے باقیات مل رہی ہیں جن کی حالت انتہائی خراب ہے، ان باقیات میں ٹوٹی ہوئی انسانی ہڈیاں اور ٹوٹے ہوئے دانت ملے ہیں، ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہونے کے باعث ڈی این اے کے لیے سیمپل بھی نہیں لیے جاسکتے، ڈی این اے ٹیسٹ نہ ہونے سے باقیات ورثا کے حوالے کرنے میں شدید مشکلات ہیں۔

آتشزدگی کے بعد 85 لاپتہ افراد کی فہرست جاری کی گئی تھی، جن میں سے 30 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

گل پلازہ میں آگ لگنے کے بعد کئی نوجوانوں کے ایک دکان میں پھنسے ہونے کی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان ایک دوسرے کو دروازے اور کھڑکیاں توڑنے کا کہہ رہے ہیں۔

فوٹیج میں نوجوانوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے یہاں سے نکلنے کی کوشش کرو، جب کہ ایک نوجوان یہ پوچھتا بھی سنا جا سکتا ہے کہ دروازہ یا کھڑکی میں سے کون سی توڑی جائے۔

ویڈیو میں ایک نوجوان کی فون پر گفتگو بھی موجود ہے جس میں وہ بار بار کہتا ہے کہ وہ اندر پھنس گیا ہے۔

قبل ازیں، کمشنر کراچی نے سانحہ گل پلازہ کی ذمہ داری دکانداروں پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرین کو آگ لگنے کا علم تھا، اس کے باوجود وہ دکانوں میں بیٹھے رہے۔

کمشنر کراچی نے اس موقع پر الزام تراشی سے گریز کی بات کی، تاہم ملبے کے دو ڈمپر غائب ہونے سے متعلق سوال پر وہ لاعلم دکھائی دیے۔

سانحہ گل پلازہ میں شہید ہونے والے شہروز کو نیو کراچی میں سپردِ خاک کر دیا گیا، جب کہ متاثرین کو ادائیگی کے لیے اندراج کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق کمیٹی متاثرین سے متعلقہ دستاویزات وصول کر رہی ہے، جس میں کراچی چیمبر کے پانچ ارکان بھی شامل ہیں۔