سانحہ گُل پلازہ: اموات کی تعداد 26 ہوگئی، مخدوش عمارت کے گرنے کا خدشہ

ملبے سے ملنے والی کئی لاشیں ناقابل شناخت ہیں جب کہ 70 لاپتہ افراد کی فہرست جاری کردی گئی۔
اپ ڈیٹ 19 جنوری 2026 11:36pm

کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ نے قیامت ڈھادی، جس کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی اور 28 افراد زخمی ہیں، ملبے سے ملنے والی کئی لاشیں ناقابل شناخت ہیں تاہم 70 لاپتہ افراد کی فہرست جاری کردی گئی ہے جب کہ مخدوش عمارت کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ ہے۔

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر ہفتے کی رات 10 بجے کے قریب لگنے والی آگ دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پہنچی اور خوفناک آتشزدگی کے باعث عمارت کے کئی حصے گر گئے۔

گل پلازہ کی عمارت کے ملبے سے لاشیں ملنے سلسلہ جاری ہے، آج مزید 18 لاشیں نکالی گئیں، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 26 تک پہنچ گئی اور 28 افراد زخمی ہیں جب کہ متعدد افراد کے جسم کے مختلف اعضا بھی ملے ہیں جنہیں ڈی این اے کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو اہلکار متاثرہ عمارت کے اندر داخل ہوگئے اور ریسکیو آپریشن تیز کردیا گیا ہے جب کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے تھرمل کیمرے استعمال کیے جارہے ہیں۔

لاپتہ افراد کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی تلاش کے لیے اسپتال پہنچ گئے، لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے کا عمل شروع کردیا گیا ہے، 18 لاشوں کی شناخت کے لیے ورثا نے ڈی این اے سیمپل دیے۔

دوسری طرف گل پلازہ کی عمارت کے تینوں اطراف سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کردیا گیا ہے، ہیوی مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹایا جارہا ہے، گل پلازہ کی بالائی چھت سے جنریٹر بھی اتاردیے گئے ہیں، گل پلازہ کی کھڑکیوں سے تاحال دھویں کے بادل بلند ہورہے ہیں۔

13 لاشوں کی شناخت ہوچکی ہے: کمشنر کراچی

کمشنر کراچی حسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ سانحہ گل پلازہ میں 26 افراد کی لاشیں ملی ہیں، جن میں 13 لاشوں کی شناخت ہوچکی ہے، کچھ لاشوں کا ڈی این اے کروائیں گے، جس کے بعد باقی لاشوں کی شناخت سامنے آئے گی تاحال 75 افراد لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کرائی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آگ کی شدت بہت زیادہ تھی میں نے اپنی زندگی میں ایسی آگ نہیں دیکھی انکوائری کمیٹی نے تحقیقات شروع کردی ہیں ہم شواہد اکٹھے کررہے ہیں، دو چار دن میں مزید شواہد سامنے آئیں گے ابھی ہمارا فوکس ریسکیو آپریشن پر ہے انکوائری میں جو سامنے آئے گا سب کو بتائیں گے ہم کسی کو ذمے دار نہیں ٹھہرا رہے اگر کوئی کرمنل حرکت کے شواہد ملے تو سخت کارروائی ہوگی۔

70 افراد پر مشتمل مسنگ پرسن کی فہرست جاری

ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی کی جانب سے بنائے گئے شکاتی سیل کی جانب سے 70 افراد پر مشتمل مسنگ پرسن کی فہرست بھی جاری کردی گئی ہے، جس میں بیشتر افراد کی عمریں 15 سے 40 سال کے درمیان ہیں جب کہ فہرست میں کئی خواتین بھی شامل ہیں۔

فہرست میں لاپتہ ہونے والے افراد کے نام ولدیت اور ان کے نمبرز بھی درج ہیں جب کہ متعدد متعلقہ نمبروں پر رابطہ کرکے ان کے ورثا سے بھی رابطہ کرلیا گیا ہے اور انہیں اپنے پیاروں کی تلاش کے لیے اسپتال بلوایا گیا ہے۔

عمارت میں لگی آگ پر قابو پانے کے بعد کولنگ اور سرچ آپریشن کا عمل جاری ہے، آگ بجھتے ہی کچھ لوگ مختلف راستوں سے عمارت میں جا گھسے، جس پر ریسکیو اہلکار لوگوں کو روکنے کے لیے منتیں ترلے کرتے رہے کہ آگے نہ جائیں بھائی جان عمارت گرجائے گی۔

دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش کے دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، جس پر فائر بریگیڈ کی گاڑی نے پھر سے پانی برسانا شروع کردیا۔ آگ نے عمارت کو مخدوش کردیا، ایک اور متاثرہ حصہ زمیں بوس ہوگیا، جس کے باعث دیگرحصے بھی منہدم ہونے کا خدشہ بڑھ گیا۔

میئرکراچی مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کے متاثرین کو متبادل جگہ دینے کے لیے غور کررہے ہیں۔ بلڈنگ کے نقشے میں کچھ بے ضابطگیاں تھیں، ایک ہزار 21 دکانوں کو ریگولرائز کیا گیا تھا لیکن 1200 دکانیں آپریٹ کررہی تھیں، تحقیقات ہوں گی کہ یہ کس کی غلطی ہے۔

عمارت میں آتشزدگی کے وقت کے دل دہلا دینے والے منظر بھی سامنے آئے، ایک ویڈیو میں لوگ کہہ رہے ہیں دروازہ توڑو گے تو زندہ نکلیں گے ورنہ سب مر جائیں گے۔ ایک اور ویڈیو میں دکانداروں اور خریداروں کو اندھیرے کے باعث موبائل ٹارچ جلا کر راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

تیسری منزل پر موجود ایک شخص نے کھڑکی کے اندر سے ٹارچ جلا کر اشارہ دیا۔ منظر دیکھ کر فضا نعرہ تکبیر سے گونج اٹھی۔ ریسکیو اہلکاروں کے مطابق ملبے سے لاشوں کے ٹکڑے مل رہے ہیں۔

لاپتہ افراد کے لواحقین سے ڈی این اے کے نمونے طلب کرلیے گئے، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ طارق کا کہنا ہے کہ ڈی این اے کے عمل میں وقت لگتا ہے۔

چیف فائر آفیسر کے مطابق عمارت کاموجودہ حصہ خطرناک ہے، ملبہ کلیئر کرنے میں 15 سے 17 دن لگ سکتے ہیں۔