عمران خان کی اڈیالہ سے اسلام آباد جیل منتقلی کا عندیہ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد جیل منتقلی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم کو اسلام آباد کی عدالت سے سزا ہوئی تو ان کو اسلام آباد کی جیل میں منتقل کریں گے۔
جمعے کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ دو ماہ میں اسلام آباد جیل مکمل ہوجائے گی، جس کے بعد عمران خان کو وہاں منتقل کیا جائے گا، جیل کے اندر تمام طبی سہولیات موجود ہیں۔
اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ کیا عمران خان کو اسلام آباد کی جیل میں منتقل کریں گے، جس کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو سزا اسلام آباد کی عدالت سے ہوئی ہے، اس لیے انہیں اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا۔
نجی چینل کے صحافی کی گرفتاری پر کے سوال پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے جواب دیتے ہوئے صحافی خرم انصاری کی گرفتاری کے معاملے کو میں خود دیکھ لیتا ہوں۔
دوسری جانب اسلام آباد پولیس کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ وفاقی پولیس کے لیے یہ بہت اہم دن یے ہمارے پاس دہشت گردی سے لڑنے والی فورس موجود نہیں تھی، ہم نے تین ماہ پہلے شروع کیا یہ 6 ماہ کا کورس ہے جو دن رات کر کے 3 ماہ میں مکمل کیا، ہمارے ان آفیسرز کو کریڈٹ جاتا ہے جنہوں نے ان کی ٹریننگ کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں ٹریننگ اسکولز کو اپ گریڈ کر رہے ہیں باہر کے لوگ بھی ٹریننگ کرنے یہاں آئیں گے، اس وقت فورس کا ہونا اس لیے بہت اہم تھا مجھے بہت امید یے ان جوانوں سے یہ دل اے لگ کر ان دہشت گردوں کو ختم کریں گے۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے اور الزام لگایا جاتا ہے کہ اڈیالہ جیل کے سابق سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم غفلت کے مرتکب ہوئے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان جس بھی ڈاکٹر سے آنکھ کا چیک اپ کرانا چاہیں کروایا جائے گا۔ عمران خان کے حوالے سے 4 ماہ کی غفلت والی کوئی بات نہیں لہٰذا ان کی صحت پر سیاست نہ کی جائے۔
واضح رہے کہ قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر عمران خان کی صحت کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ ان کا مکمل اور شفاف طبی معائنہ اہل خانہ اور ذاتی معالج کی موجودگی میں کیا جائے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ ایک بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قیدی کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرے۔













