بیچنا ہے یا نہیں، پاکستان میں آج فی تولہ سونے کی قیمت کہاں پہنچ سکتی ہے؟

سرمایہ کار سونے کو اب بھی ایک محفوظ اثاثہ سمجھ رہے ہیں، اسی لیے طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔
شائع 29 جنوری 2026 09:23am

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں تیزی کا سلسلہ جاری ہے اور جمعرات کو اسپاٹ گولڈ بڑھتے بڑھتے تقریباً 5600 ڈالر فی اونس کی ریکارڈ سطح کے قریب پہنچ گیا ہے۔

عالمی سطح پر جغرافیائی کشیدگی، معاشی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش کو اس اضافے کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی دوران چاندی کی قیمت بھی 120 ڈالر فی اونس کی حد کے قریب دکھائی دی۔

اگر اس صورتحال کو سادہ حساب کے ساتھ سمجھا جائے تو عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت عام طور پر ٹرائے اونس میں بتائی جاتی ہے، جس میں تقریباً 31.1035 گرام سونا ہوتا ہے۔

اگر ایک اونس سونے کی قیمت 5600 ڈالر ہو تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ایک گرام سونے کی قیمت تقریباً 180 ڈالر بنتی ہے۔

پاکستان میں سونے کی قیمت عموماً تولہ کے حساب سے سمجھی جاتی ہے، اور ایک تولہ میں تقریباً 11.664 گرام سونا ہوتا ہے۔

اس حساب سے اگر ایک گرام سونا تقریباً 180 ڈالر کا ہو تو ایک تولہ سونے کی عالمی قیمت تقریباً 2100 ڈالر کے قریب بنتی ہے۔

یوں عالمی منڈی کی اس قیمت کے مطابق فی تولہ سونا تقریباً 2100 ڈالر میں پڑتا ہے۔

پاکستان میں اس رقم کو روپے میں تبدیل کرنے کے لیے ڈالر کا موجودہ ریٹ لگایا جاتا ہے، جس کے بعد اس میں مقامی ٹیکس، جیولرز کا منافع اور دیگر اخراجات شامل کر کے مارکیٹ قیمت طے کی جاتی ہے۔

ان تمام عناصر کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں آج فی تولہ سونے کی قیمت 5 لاکھ 90 ہزار روپے سے اوپر جانے کا امکان ہے۔

یہ قیمت عالمی مارکیٹ کے حساب سے ہے، تاہم مقامی مارکیٹ میں ٹیکس، درآمدی چارجز اور دیگر اخراجات کی وجہ سے قیمت میں فرق آ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔

سرمایہ کار سونے کو اب بھی ایک محفوظ اثاثہ سمجھ رہے ہیں، اسی لیے طلب میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کا اثر براہ راست پاکستان سمیت دنیا بھر کی مقامی مارکیٹوں پر پڑ رہا ہے۔