اپوزیشن اتحاد کا مذاکرات کے حوالے سے حکومت کو مثبت جواب دینے کا فیصلہ
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے مذاکرات کے حوالے سے حکومت کو مثبت جواب دینے کا فیصلہ کر لیا ہے جب کہ سربراہ اپوزیشن اتحاد ساتھیوں کے اعتماد کے بعد اہم حکومتی شخصیات سے رابطہ کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں گزشتہ روز اپوزیشن اتحاد کی مشاورتی نشست ہوئی، جس میں محمود خان اچکزئی، علامہ ناصر عباس، شاہد خاقان عباسی، مصطفیٰ نواز کھوکھر، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسفزئی اور خالد یوسف چوہدری شریک ہوئے۔
اجلاس میں ارکان نے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش پر تفصیلی مشاورت کی اور رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔
ذرائع اپوزیشن اتحاد کے مطابق سلمان اکرم راجہ، شاہد خاقان عباسی اور پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے اتحاد کے سربراہان کو حکومت سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔
محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس اپوزیشن اتحاد کی فیصلوں کے بعد مذاکراتی عمل پر پیشرفت کریں گے، اعتماد حاصل ہونے کے بعد اپوزیشن اتحاد کے سربراہان رمضان المبارک میں اہم حکومتی شخصیات سے رابطہ کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے مذاکرات کے لیے بات چیت کا عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، تحریک تحفظ آئین پاکستان اجلاس سے متعلق اعلامیہ جاری کرے گی جب کہ اعلامیے میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا فوری علاج اور رسائی اہم مطالبہ ہوگا۔
پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر کا کہنا ہے کہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور مذاکراتی عمل پر یقین رکھتے ہیں، چاہتے ہیں مفاہمت اور ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کا حل نکلے، اداروں سے محاذ آرائی ختم ہو لیکن حکومت کو بھی اپنا رویہ درست کرنا ہوگا۔
جنید اکبر نے کہا کہ پولیٹیکل اسپیس نہیں دی جاتی تو پھر مذاکراتی عمل بھی آگے نہیں بڑھ سکتا، آپ مذاکرات کے لیے ماحول بنائیں، ہم بار بار کہتے ہیں آپ ایک قدم اگے بڑھیں گے تو ہم دو قدم ساتھ دیں گے، اگر حکومت حالات نارمل کر دے تو ہم بات چیت، مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما عاطف خان نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد کی نشست میں تمام جماعتوں کے ارکان شریک ہوئے، اپوزیشن ارکان نے محمود خان اچکزئی، علامہ ناصر عباس کو مذاکرات کا اختیار دے دیا ہے۔













