سرحد پار سے دہشت گردی کے خلاف برداشت کی حد ختم ہو چکی ہے: آصف زرداری

طالبان حکومت نے 9/11 سے بھی بدتر حالات پیدا کردیے ہیں: صدر مملکت
اپ ڈیٹ 23 فروری 2026 12:43am

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردی کے خلاف برداشت کی حد ختم ہو چکی ہے، پاکستان کے حالیہ اقدامات اپنے عوام کو سرحد پار سے دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے حق دفاع پر مبنی ہیں، افغان رجیم دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کررہی ہے، طالبان حکومت نے نائن الیون سے بھی بدتر حالات پیدا کردیے ہیں۔

اتوار کو اپنے ایک بیان میں صدر مملکت آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ کارروائیاں سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف اپنے لوگوں کے تحفظ کے حق کی بنیاد پر کی گئی ہیں اور یہ کارروائیاں بارہا خبردار کرنے کے باوجود باز نہ آنے پر کی گئی ہیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری کو خبردار کیا تھا کہ جب دہشت گرد گروپس کو جگہ فراہم کی جائے گی، سہولت یا سرحد سے ماورا استثنیٰ دیا جائے گا تو اس کے نتائج دنیا بھر میں بے گناہ شہریوں کو بھگتنے پڑتے ہیں، افغانستان میں طالبان رجیم نے ایسے حالات پیدا کردیے ہیں، جس پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ آصف زرداری نے کہا کہ افغان رجیم دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کررہی ہے، افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جانی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان حکومت نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو 9/11 سے پہلے کی صورت حال سے بھی بدتر ہیں، طالبان رجیم نے ایسے حالات پیدا کر دیے جس پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اینالیٹکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی حال ہی میں آنے والی رپورٹ نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے۔