اسلام آباد: نمازِ جمعہ کے دوران مسجد میں خودکش دھماکا، 24 افراد جاں بحق 100 سے زائد زخمی
اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں نمازِ جمعہ کے دوران مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 24 ہوگئی جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق ترلائی میں نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ آور نے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے وہاں موجود افراد نے روکا جس پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
دھماکے کے بعد پولیس، ریسکیو ٹیمیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بم اسکواڈ کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہے۔ دھماکے مقام کو سیل کردیا گیا ہے جبکہ ترلائی جانے والے راستے ٹریفک کے لیے بند کردئیے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو پمز اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر شہر بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے وزیر مملکت طلال چوہدری کو پمز اسپتال پہنچنے کی ہدایت کی جس کے بعد جس کے بعد انہوں نے دھماکے میں زخمی ہونے والے زیرِ علاج مریضوں کی عیادت کی۔
ذرائع کے مطابق طلال چوہدری نے دھماکے کے زخمیوں کے لیے خصوصی طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ترلائی میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے میں شہادتوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم نے ترلائی میں پیش آنے والے دھماکے کی سخت مذمت کرتے ہوئے شہداء کے بلند درجات اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ وزیراعظم نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار بھی کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کے حوالے سے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی، جس میں سیکیورٹی صورتحال اور واقعے کی تفصیلات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے ذمہ داران کے فوری تعین کا حکم دیا۔
ذرائع کے مطابق ایک عینی شاہد نے اس حوالے سے بتایا کہ دھماکے سے قبل فائرنگ ہوئی تھی جس کے فوراً بعد دھماکا ہوگیا۔















