وزیراعظم شہباز شریف سے لیبیا کی سیاسی اور عسکری قیادت کی ملاقات
وزیرِاعظم شہبازشریف سے لیبیا کے اعلیٰ سطح وفد نے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی شرکت کی۔
وزیرِاعظم ہاؤس کے اعلامیے کے مطابق منگل کے روز وزیرِاعظم شہباز شریف سے لیبیا کے وزیرِاعظم ڈاکٹر اسامہ سعد حماد، فیلڈ مارشل خلیفہ ابو القاسم حفتر اور عرب مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر نے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال اور دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
دونوں ملکوں کی قیادت نے قریبی روابط برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ شعبوں میں تعاون بڑھانے اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر امن، استحکام اور ترقی کو فروغ دینے کی مشترکہ خواہش کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے لیبیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور مسلسل رابطے اور بات چیت کی اہمیت پر زور دیا۔
لیبیا کی قیادت نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو وسعت دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ 2011 میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لیبیا دو انتظامی حصوں میں بٹا ہوا ہے، جہاں مشرقی اور مغربی حصے میں دو حکومتیں قائم ہیں، یہ دونوں الگ دارالحکومت اور علیحدہ فوج رکھتی ہیں۔
لیبیا کے مغربی حصے میں حکومتِ وحدتِ ملی (گورنمنٹ آف نینشنل یونِٹی) کے نام سے انتظامی معاملات چلائے جاتے ہیں، جس کے سربراہ عبد الحمید الدبیبہ ہیں۔ اس حکومت نے طرابلس شہر کو اپنا دارالحکومت بنا رکھا ہے اور یہاں دفاع کا انحصار مختلف ملیشیاؤں اور مسلح گروہوں کے اتحاد پر ہے۔
لیبیا کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں حکومتِ استحکامِ ملی (گورنمنٹ آف نیشنل اسٹیبلٹی) قائم ہے، جسے لیبیا کی پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ اس حکومت نے بن غازی کو دارالحکومت قرار دیا ہے اور یہاں ڈاکٹر اسامہ حماد وزیرِاعظم ہیں۔
مشرقی لیبیا میں نیشنل آرمی یا ’لیبیئن عرب آرمڈ فورسز‘ (ایل این اے) ایک باقاعدہ اور مرکزی عسکری کمانڈ کے طور پر کام کرتی ہے۔
یاد رہے کہ فروری کے پہلے ہفتے میں پاکستان کا دورہ کرنے والا اعلیٰ سطح وفد لیبیا کے مشرقی حصے سے تعلق رکھتا ہے۔ جس میں وزیرِاعظم اسامہ حماد، لیبیا کی عرب مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف فیلڈ مارشل خلیفہ ابو القاسم حفتر اور لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر شامل ہیں، جو فیلڈ مارشل کے صاحبزادے اور فوج کے ڈپٹی کمانڈر اِنچیف ہیں۔













