بحری جہاز اِیران کی طرف روانہ ہورہے ہیں لیکن اچھا ہوگا انہیں استعمال نہ کرنا پڑے، ٹرمپ

امریکا تصادم نہیں چاہتا بلکہ سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، امریکی صدر
اپ ڈیٹ 30 جنوری 2026 09:38am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے باوجود ایران سے بات چیت کے ارادے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنے واضح مطالبات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

کینیڈی سینٹر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکا کے انتہائی بڑے اور طاقتور بحری جہاز ایران کی جانب روانہ ہو رہے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ سب اسی صورت بہتر ہوگا اگر انہیں استعمال کرنے کی نوبت نہ آئے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے حوالے سے دو بنیادی اور غیر متنازع مطالبات رکھتا ہے، جن میں ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا اور ملک میں مظاہرین کو پھانسیاں دینے کا سلسلہ بند کرانا شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے مظاہرین کے خلاف تشدد اور ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رکھا تو امریکا مداخلت پر مجبور ہوگا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا تصادم نہیں چاہتا بلکہ سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، تاہم قومی سلامتی اور انسانی حقوق کے معاملات پر کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

انہوں نے زور دیا کہ ایران کو عالمی برادری کے اصولوں کے مطابق رویہ اختیار کرنا ہوگا۔

ایک اور سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کیوبا پر دباؤ ڈالنے کی امریکی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے سخت ریمارکس دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیوبا موجودہ حالات میں نہیں بچ سکے گا اور وہ ایک ڈوبتی ہوئی قوم ہے، جسے اپنے طرزِ حکمرانی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔