بحری جہاز اِیران کی طرف روانہ ہورہے ہیں لیکن اچھا ہوگا انہیں استعمال نہ کرنا پڑے، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے باوجود ایران سے بات چیت کے ارادے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنے واضح مطالبات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
کینیڈی سینٹر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکا کے انتہائی بڑے اور طاقتور بحری جہاز ایران کی جانب روانہ ہو رہے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ سب اسی صورت بہتر ہوگا اگر انہیں استعمال کرنے کی نوبت نہ آئے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے حوالے سے دو بنیادی اور غیر متنازع مطالبات رکھتا ہے، جن میں ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا اور ملک میں مظاہرین کو پھانسیاں دینے کا سلسلہ بند کرانا شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے مظاہرین کے خلاف تشدد اور ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رکھا تو امریکا مداخلت پر مجبور ہوگا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا تصادم نہیں چاہتا بلکہ سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، تاہم قومی سلامتی اور انسانی حقوق کے معاملات پر کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران کو عالمی برادری کے اصولوں کے مطابق رویہ اختیار کرنا ہوگا۔
ایک اور سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کیوبا پر دباؤ ڈالنے کی امریکی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے سخت ریمارکس دیے۔
ان کا کہنا تھا کہ کیوبا موجودہ حالات میں نہیں بچ سکے گا اور وہ ایک ڈوبتی ہوئی قوم ہے، جسے اپنے طرزِ حکمرانی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔













