’غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ فلسطین میں قیام امن اور تعمیر نو کے لیے کیا‘: پاکستان کا مؤقف

سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، انڈونیشیا اور قطر بھی غزہ بورڈ آف پیس کا حصہ ہیں۔
اپ ڈیٹ 22 جنوری 2026 08:56am

پاکستان نے غزہ میں پائیدار امن کے قیام اور تعمیر نو کی عالمی کوششوں میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ فلسطین میں امن کے قیام، انسانی امداد میں اضافے اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے مقصد کے تحت کیا گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کے نفاذ کی حمایت کے لیے اس عالمی بورڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان کو امید ہے کہ اس فریم ورک کے ذریعے فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں نمایاں بہتری آئے گی اور غزہ کی بحالی کے لیے عملی اقدامات ممکن ہو سکیں گے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، انڈونیشیا اور قطر بھی غزہ بورڈ آف پیس کا حصہ ہیں۔

انہوں نے مشترکہ امن کوششوں کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اس بات پر زور دیتا ہے کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے والی ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ہی مسئلہ فلسطین کا پائیدار حل ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان بورڈ آف پیس کے رکن کی حیثیت سے فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے اور حق خود ارادیت کے حصول کے لیے تعمیری کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

ترکیہ نے بھی عالمی بورڈ آف پیس میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے اور ترک وزیر خارجہ حاقان فدان اس بورڈ کے اجلاس میں اپنے ملک کی نمائندگی کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ترکیہ عالمی امن کے فروغ کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرتا رہے گا۔

ڈیووس فورم کے موقع پر بھی امن اور علاقائی استحکام سے متعلق اہم مشاورت متوقع ہے، جس میں مختلف ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق آج ڈیووس میں کئی ممالک غزہ امن بورڈ کے مشترکہ معاہدے پر دستخط کریں گے، جبکہ مجموعی طور پر 59 ممالک اس معاہدے میں شامل ہونے کے خواہش مند ہیں، جن میں مشرق وسطیٰ سے باہر کے ممالک بھی شامل ہیں۔

روسی صدر ولادمیر پیوٹن نے بھی امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ روس اپنے منجمد اثاثوں میں سے ایک کروڑ ڈالرز بورڈ آف پیس کے لیے دینے کو تیار ہے، جبکہ باقی فنڈز یوکرین جنگ کے بعد تعمیر نو کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

Israel

Donald Trump

پاکستان

Gaza

turkiye

President Donald Trump

U.S. President Donald Trump

Gaza board

Gaza peace board

Gaza Board of Peace initiative

gaza board of peace