ٹرمپ نے ایران پر حملہ اسرائیل کے راکٹس ختم ہونے کی وجہ سے روکا: امریکی میڈیا
امریکی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ اسرائیل کے راکٹس ختم ہونے کی وجہ سے روکا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ بدھ 14 جنوری کی صبح مشرقِ وسطیٰ اور واشنگٹن میں یہ تاثر مضبوط ہو چکا تھا کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف سخت فضائی حملوں کی منظوری دینے والے ہیں۔ یہ حملہ امریکی فوجی طاقت کے دوسرے بڑے استعمال کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، اس سے قبل امریکا کی خصوصی ڈیلٹا فورسز نے وینزویلا میں جرات مندانہ کارروائی کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا تھا۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے باضابطہ طور پر حملوں کا حکم نہیں دیا تھا، تاہم ان کے اعلیٰ سیکیورٹی مشیروں کو توقع تھی کہ وہ پیش کیے گئے فوجی آپشنز میں سے کسی ایک کی جلد منظوری دے دیں گے، جس کے باعث رات گئے تک سرگرمیوں کے لیے تیاری کی جا رہی تھی۔
اسی دوران پینٹاگون نے اعلان کیا کہ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس روزویلٹ خلیج فارس میں داخل ہو چکا ہے۔ معاملے سے واقف ایک شخص کے مطابق امریکی اتحادیوں کو ممکنہ حملے سے آگاہ کر دیا گیا تھا، جبکہ بحری جہاز اور طیارے حرکت میں آ چکے تھے۔ قطر میں واقع وسیع امریکی فضائی اڈے العدید پر موجود عملے کو ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر انخلا کا مشورہ دیا گیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے منگل کی صبح سوشل میڈیا پر ایرانی مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مدد راستے میں ہے اور انہیں ریاستی اداروں پر قبضہ کرنے کی ترغیب دی تھی۔ متعدد امریکی اور غیر ملکی حکام نے اس بیان کو فوجی مداخلت کا اشارہ سمجھا، تاہم صدر ٹرمپ ایران پر دباؤ ڈالنے کے دیگر راستوں پر بھی غور کر رہے تھے تاکہ مظاہرین کے قتل کو روکا جا سکے۔
اہم موڑ بدھ کو آیا جب صدر ٹرمپ کو خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ذریعے اطلاع ملی کہ ایرانی حکومت نے 800 افراد کی مجوزہ پھانسیوں کو منسوخ کر دیا ہے۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا ہم دیکھیں گے اور انتظار کریں گے۔ بعد ازاں جمعرات کو امریکی انٹیلی جنس نے تصدیق کی کہ پھانسیاں عمل میں نہیں آئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کے اس اچانک فیصلے نے ان کے کئی مشیروں کو حیران اور ایران مخالف عناصر کو مایوس کیا تھا۔ درجن سے زائد موجودہ اور سابق امریکی و مشرقِ وسطیٰ کے عہدیداروں کے مطابق یہ فیصلہ اندرونی اور بیرونی دباؤ، سفارتی رابطوں اور فوجی تیاریوں کے تناظر میں کیا گیا۔
جبکہ حکام کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو اس حقیقت کا سامنا کرنا پڑا کہ ایک اور مشرقِ وسطیٰ کے ملک کو غیر مستحکم کرنا غیر متوقع نتائج کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ امریکی فوجی طاقت کی بھی حدود ہیں۔
امریکی اخبارمیں لکھا گیا کہ پینٹاگون کے عہدیداروں کو تشویش تھی کہ صدر کے حکم پر کیریبین میں طیارہ بردار بحری بیڑا بھیجنے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فائر پاور مطلوبہ حد سے کم ہو چکی ہے، جو ممکنہ بڑے ایرانی جوابی حملے کے لیے ناکافی ہو سکتی ہے۔
ایک موجودہ اور ایک سابق امریکی عہدیدار کے مطابق اس بات پر اسرائیل نے بھی تشویش کا اظہار کیا تھا کیونکہ جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو روکنے کے لیے اسرائیل نے بڑی تعداد میں انٹرسیپٹر راکٹ استعمال کیے تھے۔
سعودی عرب، قطر اور مصر سمیت اہم امریکی اتحادیوں نے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کر کے تحمل اور سفارت کاری پر زور دیا تھا۔
امریکی اخبار کے مطابق متعدد حکام کا کہنا تھا صدر ٹرمپ نے یہ بھی محسوس کیا تھا کہ ایران پر حملے ایک بار کی کارروائی نہیں ہوں گے بلکہ اس کے نتیجے میں معاشی بحران، وسیع جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں تعینات 30 ہزار امریکی فوجیوں کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایک سینئر یورپی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت اس مرحلے پر بڑے خطرے سے بچ گئی ہے، تاہم سڑکوں پر نکلنے والے ایرانی مظاہرین صدر ٹرمپ کے پیچھے ہٹنے پر خود کو دھوکا کھایا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران میں مظاہرے تھم چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس کارروائی میں 3 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کی بندش کے باعث درست اعدادوشمار سامنے نہیں آ سکے۔
اگرچہ حملے مؤخر کر دیے گئے ہیں، تاہم صدر ٹرمپ اور ان کے مشیر تمام آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں۔ یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے، جو اس وقت بحیرہ جنوبی چین میں موجود ہے اور ایک ہفتے سے زائد وقت میں خطے میں پہنچے گا۔
خطے کے عرب ممالک نے متفقہ طور پر واشنگٹن کو پیغام دیا تھا کہ فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس کے اثرات پورے خطے کی سلامتی اور معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ اسرائیل نے بھی اپنی دفاعی تیاریوں کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے امریکا سے حملے مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ حکام کے مطابق آئندہ دو سے تین ہفتوں میں صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف کارروائی کی دوبارہ منظوری کا موقع مل سکتا ہے۔
















