ایران میں خانہ جنگی کا خطرہ سنگین، حکومت کے مخالفین اور حامی آمنے سامنے

بین الاقوامی منظرنامے میں ایران کی صورتحال پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔
اپ ڈیٹ 11 جنوری 2026 02:52pm

ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری احتجاج ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر گیا ہے، جہاں حکومت مخالف مظاہرین اور حکومت کے حامی سڑکوں پر آمنے سامنے آگئے ہیں۔ دارالحکومت تہران اور ملک کے دیگر شہروں میں ہونے والی جھڑپوں میں ہلاکتوں کی غیرتصدیق شدہ تعداد سیکڑوں میں ہوچکی ہے، جبکہ 2600 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

مظاہرین نے مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل کر حکومت کی سختی کے خلاف آواز بلند کی، جس کے نتیجے میں متعدد جگہوں پر سڑکیں خون سے سرخ ہو گئیں اور اسپتالوں میں لاشوں پر ماتم کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔

تہران کے جنوب میں واقع کہریکز کے علاقے میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ جہاں لندن میں واقع خبر رساں ادارے ’ایران انٹرنیشنل‘ کے مطابق 400 افراد ہلاک ہوئے اور 100 سے زائد مسلح افراد کو گرفتار کیا گیا۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے ملکی دفاع کو سرخ لکیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عوامی املاک اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ ایرانی فوج نے بھی عوام اور حکومتی تنصیبات کی حفاظت کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ایران میں یہ احتجاج گزشتہ سال 28 دسمبر سے شروع ہوئے اور ملک میں آٹھ جنوری سے انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند ہے، جس نے مظاہرین اور میڈیا کی رسائی محدود کر دی ہے۔

سابق شاہِ ایران کے جلاوطن بیٹے رضا شاہ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران پر قابض حکومتی ٹولہ اب لاکھوں مظاہرین کے مقابلے کے قابل نہیں رہا اور سیکیورٹی فورسز کے بہت سے جوان عوام پر گولی چلانے سے انکار کر چکے ہیں، جس کے بعد خامنہ ای کے ساتھ اب صرف چند پُرتشدد عناصر رہ گئے ہیں۔

بین الاقوامی منظرنامے میں بھی ایران کی صورتحال پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملوں کے آپشنز پر بریفنگ دی گئی ہے، جس میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکانات شامل ہیں۔

تاہم، امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے ایران پر حملے کے منصوبے کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ عمل غیرقانونی ہوگا اور کانگریس اس کی حمایت نہیں کرے گی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ امریکا مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہے اور ایران ”آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے، جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا“۔

ایران میں جاری مظاہروں نے عالمی سطح پر بھی ردعمل پیدا کیا ہے۔ لندن میں ایرانی سفارت خانے کے سامنے احتجاج کیا گیا، جہاں مظاہرین نے سرکاری پرچم اتار کر ایران کے انقلاب سے پہلے کا پرچم لہرا دیا، جس پر پولیس نے دو افراد کو گرفتار کیا جبکہ تیسرے کی تلاش جاری ہے۔

کینیڈا میں بھی ایرانی سپریم لیڈر کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

ایران میں حکومت اور عوام کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، جس کے باعث ملک میں خانہ جنگی کے خطرات شدت اختیار کر چکے ہیں اور عالمی برادری اس بحران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

Iran

Iran Protest

iran inflation

Iran Unrest

Iran Protests

Iran's Supreme Leader

Iran Crisis

Iran Revolution

Iranian Security Forces

US Strike on Iran

Iran Instability