ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان، گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی
ایران نے حالیہ کشیدگی کے پیشِ نظر آبنائے ہرمز کو آمد و رفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس راستے سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔
پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل ابراہیم جباری نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے ردعمل میں ایران اس اہم آبی گزرگاہ سے کسی کو گزرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز بند کر دی گئی ہے۔ ہر وہ جہاز جو یہاں سے گزرنے کی کوشش کرے گا، اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
ابراہیم جباری کا کہنا تھا کہ ایران خطے سے تیل کا ایک قطرہ بھی باہر نہیں جانے دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے سے گزرنے والی تیل کی پائپ لائنوں کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ہزاروں ارب ڈالر کے قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اور خطے کے تیل پر انحصار کرتا ہے، لیکن اسے جان لینا چاہیے کہ ایک قطرہ تیل بھی ان تک نہیں پہنچے گا۔
ایران اور عمان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز تیل کی دنیا بھر میں ترسیل کے لیے اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ پوری دنیا میں تیل کی عالمی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد یہیں سے گزرتا ہے۔
پیر کے روز عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے مزید اوپر جا سکتی ہیں۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی آمد و رفت میں رکاوٹ اور خلیجی ممالک میں توانائی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے باعث یہ خدشہ بڑھ گیا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے عالمی معیشت کے لیے تیل اور گیس کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
















