ایران جنگ پر تنقید، مخالفین کو مطمئن نہ کر پانے پر ٹرمپ جھنجھلاہٹ کا شکار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگی کارروائی پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے پیر کے روز ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کے خلاف کارروائی ملکی سلامتی کے لیے ضروری سمجھی، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ اس وقت جنگ کیوں ضروری تھی اور اس تنازع کا انجام کیا ہوگا۔
امریکی میڈیا کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنے کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے۔
ان کا کہنا تھا کہ اکثر صدور یہ کہتے ہیں کہ زمینی فوج نہیں بھیجی جائے گی، لیکن وہ ایسا کوئی وعدہ نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ غالب امکان ہے کہ اس کی ضرورت پیش نہ آئے، لیکن اگر ضروری ہوا تو فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ انتظامیہ یہ نہیں بتائے گی کہ وہ کیا کرے گی یا کیا نہیں کرے گی، کیونکہ اس طرح دشمن کو پہلے سے معلومات مل سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل، خطے میں موجود امریکی اڈوں اور خلیجی ممالک کی طرف ڈرون اور میزائل حملے جاری ہیں۔
پیر کے روز اسرائیل اور لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے درمیان بھی حملوں کا تبادلہ ہوا، جس سے تنازع ایک نئے محاذ تک پھیل گیا۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ گزشتہ انتخابی مہم میں ”امریکا فرسٹ“ کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں واپس آئے تھے اور انہوں نے ماضی کی طویل جنگوں سے دور رہنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے قوم سازی اور حکومتوں کی تبدیلی کی پالیسی کو ناکام قرار دیا تھا۔
تاہم اب وہ ایک ایسے تنازع میں شامل ہیں جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ میں ایک طویل جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
ان کے کچھ قریبی اتحادیوں نے بھی اس فیصلے پر سوال اٹھائے ہیں۔
معروف سکیورٹی کنٹریکٹر ایرک پرنس نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ وہ اس صورتحال سے خوش نہیں ہیں اور انہیں نہیں لگتا کہ یہ قدم امریکا کے مفاد میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے خطے میں مزید انتشار اور تباہی پھیل سکتی ہے۔ کچھ دیگر قدامت پسند شخصیات نے بھی ایران پر حملے کے فیصلے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
تاہم ٹرمپ نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حامی ان کے اقدامات کی حمایت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا معاملہ ایک ایسا راستہ ہے جس پر چلنا ملک کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
ریپبلکن رکن کانگریس ٹم برچیٹ نے بھی صدر کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران ماضی میں امریکیوں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث رہا ہے، اس لیے اقدام ناگزیر تھا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی منصوبے سے آگے بڑھ رہی ہے اور اندازہ ہے کہ چار سے پانچ ہفتوں میں اہداف حاصل ہو سکتے ہیں، اگرچہ اس میں زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔
وزیر دفاع ہیگستھ نے مدت کے حوالے سے محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی کی مدت کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔
امریکی فوجی حکام کے مطابق اب تک ایران کی جوابی کارروائیوں میں چھ امریکی اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہو چکے ہیں۔
ادھر ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ رہنماؤں کی ہلاکت کے بعد یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آگے ایران کی قیادت کون سنبھالے گا۔
امریکی انتظامیہ نے اس بارے میں کوئی واضح منصوبہ پیش نہیں کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایرانی پاسداران انقلاب سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فضائی حملوں سے حکومت کی تبدیلی مشکل ہوتی ہے۔
واشنگٹن کے تھنک ٹینک کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے نائب صدر تریتا پارسی کا کہنا ہے کہ ممکن ہے انتظامیہ مکمل حکومت کی تبدیلی کے بجائے نظام کے اندرونی ٹوٹ پھوٹ پر اکتفا کرے۔
ان کے مطابق یہ حکمت عملی مختلف نتائج لا سکتی ہے اور اس کے اثرات طویل مدتی ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی خفیہ بریفنگز میں کانگریس کو بتایا گیا کہ ایران کی جانب سے فوری طور پر امریکا پر حملے کی تیاری کے شواہد نہیں تھے، البتہ خطے میں اس کے میزائل اور اتحادی گروہوں کی سرگرمیوں سے عمومی خطرہ موجود تھا۔
صدر ٹرمپ نے پھر بھی یہ مؤقف دہرایا کہ ایران ایسے بیلسٹک میزائل بنانے کی کوشش کر رہا تھا جو امریکا تک پہنچ سکتے ہیں۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے بھی کہا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام وسیع ہے، لیکن اس وقت جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی فعال پروگرام موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنے متاثرہ جوہری مراکز تک معائنہ کاروں کی رسائی کی اجازت نہیں دی ہے۔
اسلحہ کنٹرول ایسوسی ایشن کی ماہر کیلسے ڈیونپورٹ نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی کو جوہری پھیلاؤ روکنے کی حکمت عملی نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ سائنسی معلومات کو بمباری سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔















