میزائل حملوں کے بعد یو اے ای حکومت کی شہریوں کے لیے ہدایات جاری
امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوسرے روز متحدہ عرب امارات میں سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر حکام نے ہنگامی اقدامات کیے ہیں۔
گلف نیوز کے مطابق نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے سوشل میڈیا پیغام میں کہا ہے کہ صورت حال مکمل کنٹرول میں ہے اور عوام کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔
اتھارٹی کے مطابق تمام متعلقہ ادارے چوبیس گھنٹے نگرانی کر رہے ہیں اور قومی سطح پر مربوط حکمت عملی کے تحت حفاظتی اقدامات جاری ہیں۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پرسکون رہیں، گھروں کے اندر یا محفوظ مقامات پر قیام کریں اور صرف سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں۔
وزارتِ داخلہ نے ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے واضح ہدایات دی ہیں کہ اگر میزائل حملے کی وارننگ یا سائرن سنائی دے تو فوری طور پر قریبی محفوظ عمارت میں پناہ لی جائے، کھڑکیوں، دروازوں اور کھلے مقامات سے دور رہا جائے اور مزید ہدایات کا انتظار کیا جائے۔ حکام نے عوام کو تاکید کی ہے کہ گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں اور باہر نکلنے سے گریز کریں۔
وزارتِ دفاع کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو ملک کے فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ میزائلوں کے ملبے یا دھات کے ٹکڑے زمین پر گر سکتے ہیں۔ عوام سے کہا گیا ہے کہ کسی بھی مشکوک شے یا ملبے کو ہاتھ نہ لگایا جائے اور فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دی جائے۔
ویک اینڈ کے دوران سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اطلاعات کے پھیلاؤ کے بعد پبلک پراسیکیوشن نے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ نامعلوم ذرائع سے حاصل شدہ معلومات یا افواہوں کو شیئر یا ری پوسٹ کرنا بھی قانوناً جرم ہے، چاہے متعلقہ فرد اس مواد کا اصل خالق نہ ہو۔
صورت حال کے پیشِ نظر وزارتِ تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولز اور جامعات پیر 2 مارچ سے بدھ 4 مارچ تک آن لائن نظامِ تعلیم اختیار کریں گے۔ اس فیصلے کا اطلاق طلبہ، اساتذہ اور انتظامی عملے پر یکساں ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔
یو اے ای حکام نے عوام پر زور دیا ہے کہ قومی تیاری کا نظام مکمل طور پر فعال ہے اور روزمرہ زندگی کو محفوظ انداز میں جاری رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور افواہوں سے اجتناب کریں۔












