اسرائیلی سفاکیت کی انتہا: ایران میں اسکول پر حملہ، 50 سے زائد طالبات شہید
ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے اسکول پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں شہداء کی تعداد 53 ہوگئی۔
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اس حملے میں کم از کم 63 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں جانی نقصان کم بتایا گیا تھا، تاہم بعد میں موصول ہونے والی رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملبے میں اب بھی طالبات اور اساتذہ کے دبے ہونے کا خدشہ ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام کے مطابق اسکول پر حملہ ایسے وقت میں ہوا جب علاقے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ تھی۔ میناب میں ایران کی نیم فوجی فورس کا ایک اڈہ بھی موجود ہے، جس کی وجہ سے یہ شہر سیکیورٹی لحاظ سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
یہ پیش رفت اس بڑے فوجی آپریشن کے بعد سامنے آئی ہے جو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف اہداف کے خلاف شروع کیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران تہران سمیت کئی شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اس مہم کے بارے میں تفصیلی وضاحت تاحال جاری نہیں کی گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی حکومت کا کنٹرول سنبھالیں، جبکہ ایران نے اس کارروائی کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ادھر خطے میں صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔ ایران نے اسرائیل کی جانب میزائل اور ڈرون حملوں کی ایک لہر شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ اسرائیل نے ملک بھر میں الرٹ جاری کر رکھا ہے۔
بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹرز کے قریب حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اسی دوران عراق اور متحدہ عرب امارات نے اپنی فضائی حدود بند کر دیں، اور اردن میں بھی سائرن بجنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ امارات کے دارالحکومت پر حملے میں ملبے سے ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی ہے۔
یمن میں ایران کے حامی حوثی گروپ نے بھی بحیرہ احمر کے بحری راستوں اور اسرائیل کے خلاف دوبارہ حملے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ امدادی ادارے مناب کے اسکول میں جاری ریسکیو کارروائیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ملک کے جنوب مشرقی بندرگاہی شہر چابہار میں دھماکے کی آواز سنی گئی ہے، جس کی اطلاعات مقامی وقت کے مطابق صبح کے ابتدائی پہروں میں موصول ہوئیں۔ ایرانی ریاستی ذرائع نے دھماکے کی وجوہات اور ممکنہ نقصان کے بارے میں فوری تفصیلات نہیں دی ہیں اور تحقیقات ابھی جاری ہیں۔
چابہار ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں واقع ایک اہم بندرگاہی شہر ہے، جو بحیرہ عمان کے کنارے پر ہے اور تجارتی و اقتصادی لحاظ سے ملک کے لیے اہم ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ چابہار میں دھماکے کی آواز کی وجہ کسی حملے، فوجی کارروائی، صنعتی حادثے یا کسی دیگر سبب سے ہوئی، کیونکہ سرکاری ذرائع کی طرف سے فی الحال صرف دھماکے کی آواز کے سنائی دینے کی اطلاع دی گئی ہے۔













