آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام امن کے لیے ناگزیر ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ غزہ میں پائیدار امن ہمارا مشن ہے، آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے اور فلسطینیوں کا حق ہے، غزہ میں پائیدار امن کے لیے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں رکنی چاہئیں۔
جمعرات کو واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت غزہ بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت باعث افتخار ہے، غزہ میں پائیدار امن ہمارا مشن ہے، فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین کا مکمل حق ہونا چاہیے، آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے تنازعات کے حل کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی بروقت مداخلت سے پاک بھارت جنگ رکی، اس جنگ بندی سے کروڑوں قیمتی جانیں بچیں، صدر ٹرمپ امن کے علمبردار ہیں، صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کو بڑی تباہی سے بچایا۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فلسطینیوں کو ان کا حق دیا جائے، مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے آج کا دن تاریخ کا سنہری باب ہے، دیرپا امن کے لیے غزہ میں سیز فائر کی خلاف ورزیاں ختم ہونی چاہئیں، غزہ میں امن قائم کرنا آپ کی بہت بڑی کامیابی اور میراث ہوگی۔
وزیرِاعظم کی واشنگٹن میں عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں
اس کے علاوہ وزیرِاعظم شہبازشریف نے واشنگٹن میں منعقدہ بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کے لیے آئے عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی اور خوشگوار ملاقاتیں کی ہیں۔
جمعرات کو وزیرِاعظم شہباز شریف کی بحرین کے فرمانروا شاہ حماد بن عیسی الخلیفہ، آذربائیجان کے صدر الہام علیوف، ازبکستان کے صدر شوکت مرزا یوف، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف اور انڈونیشیا کے صدرپر ابوو سوبیانتو سے غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔
ملاقاتوں میں اہم عالمی و علاقائی امور پر گفتگو کی گئی جب کہ مسکراہٹوں کا تبادلہ اور غیررسمی گرمجوشی بھی دیکھی گئی۔
وزیرِاعظم واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ہیں۔
پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت غزہ میں امن کے قیام، تعمیر نو اور عالمی امن کے لیے پاکستان کی کوششوں اور سفارتی پالیسی کی بڑھتی ہوئی کامیابیوں کی عکاسی ہے۔














