ایران خراب مذاکرات کار ثابت ہوا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ امن معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
طیارے میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات میں شامل رہیں گے اور صورتحال پر براہ راست نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بات چیت سے ایران ایک خراب مذاکرات کار ثابت ہوا ہے، تاہم امید ہے کہ آئندہ مذاکرات میں تہران معقول اور سنجیدہ رویہ اختیار کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے امریکا سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ غزہ کے حوالے سے قائم کیے گئے غزہ پیس بورڈ میں بہترین اور باصلاحیت والے رہنما شامل ہیں اور یہ بورڈ اقوام متحدہ کے تعاون سے کام کرے گا۔
ان کے بقول اس اقدام کا مقصد خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔
سعودیہ اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مبینہ تنازع کسے متعلق سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا براہ راست اس معاملے میں شامل نہیں، تاہم اگر ضرورت پڑی تو وہ تنازع کے حل میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور آج سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں شروع ہوگا۔
ایرانیِ وزیر خارجہ عباس عراقچی جنیوا پہنچ گئے ہیں جہاں وہ مذاکراتی عمل میں ایرانی وفد کی قیادت کریں گے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکا عائد کردہ پابندیاں ختم کر دے تو تہران کسی بھی ممکنہ سمجھوتے پر غور کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندیوں کا خاتمہ اعتماد سازی کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔















