اپوزیشن کا عمران خان سے ملاقات اور مکمل علاج تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنے کا فیصلہ
اپوزیشن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات اور مکمل علاج تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
جمعرات کو تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے اپوزیشن اتحاد کا مشاورتی اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ جس میں اپوزیشن جماعتوں کی مرکزی قیادت نے شرکت کی جب کہ محمود خان اچکزئی کی جانب سے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا۔
اجلاس میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سمیت دیگر ممبران قومی اسمبلی نے شرکت کی۔
اپوزیشن اتحاد کے مشاورتی اجلاس میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کو لے کر آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن اتحاد نے کل بعد نماز جمعہ پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے پر دھرنا دینے کا فیصلہ کیا ہے، جو سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات اور مکمل علاج تک جاری رہے گا۔
ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے پر پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت دھرنا دے گی، اس سلسلے میں تمام ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد پہنچنے کی ہدایات جاری کردی گئیں۔
دھرنے کا فیصلہ اپوزیشن اتحاد قائدین کی اسلام آباد میں مشاورت کے دوران ہوا، جو کل نماز جمعہ کے بعد سے شروع ہوگا۔ اپوزیشن کے سینیٹرز کو بھی دھرنے میں شرکت کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جب کہ تمام پارٹی ٹکٹ ہولڈر کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جنید اکبر نے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے تمام اراکین صوبائی و قومی اسمبلی اور اراکین سینیٹ کو ڈی چوک دھرنے میں شرکت کی ہدایت کی ہے۔
ادھر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کل سے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پر امن احتجاجی دھرنا شروع ہوگا، ہمارے مطالبات ہم کل دھرنے میں رکھیں گے اور مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنا جاری رہے گا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ مطالبات تسلیم کرنے میں خدانخواستہ کچھ غلط ہوا تو ذمہ دار حکومت ہوگی۔
اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سپریٹنڈنٹ جیل اور جس کرنل نے یہ جرم کیا ہے اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا، سب اراکین اسمبلی وعدہ کریں کہ وہ دھرنے میں شریک ہوں گے، کب تک بیٹھیں گے؟ یہ اللہ کو معلوم ہے اور پھر اٹھنے والی بات نہیں ہوگی۔
خیال رہے کہ اڈیالا جیل میں قید بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو دستیاب سہولیات کی رپورٹ منظر عام پر آگئی ہے، جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد تک محدود رہ گئی ہے۔
سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں عمران خان کی آنکھ کے فوری معائنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ علاج ذاتی ڈاکٹرسے معائنہ کرایا جائے تاہم بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کسی ماہر ڈاکٹر سے بھی کرایا جا سکتا ہے۔













