سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن نے شواہد مانگ لیے
کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر پیش آنے والے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن نے پبلک نوٹس جاری کرتے ہوئے عوام سے واقعے سے متعلق شواہد مانگ لیے ہیں۔
بدھ کو جسٹس آغا فیصل سربراہی میں سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس ہوا۔ جس میں کمشنر کراچی اور سیکرٹری قانون و داخلہ نے شرکت کی۔
جوڈیشل کمیشن نے سانحے کی تحقیقات سے متعلق پبلک نوٹس جاری کردیا جب کہ پبلک نوٹس میں کمیشن کے ٹی او آر بھی شامل کیے ہیں۔
جوڈیشل کمیشن کی جانب سے سانحہ گل پلازہ سے متعلق عوام سے شواہد طلب کرلیے گئے، پبلک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شہری کے پاس سانحے سے متعلق اہم شواہد یا معلومات ہوں تو کمیشن سے رابط کرسکتا ہے۔
کمیشن نے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کو پبلک نوٹس اخبارات میں شائع کروانے کی ہدایت کی اور کہا کہ سانحہ گل پلازہ سے متعلق معلومات رکھنے والے افراد ای میل کے ذریعے کمیشن سے رجوع کرسکتے ہیں جب کہ واقعے سے متعلق حقائق، واقعاتی معلومات جوڈیشل کمیشن کو فراہم کی جاسکتی ہیں۔
پبلک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن سے 20 فروری سے قبل ای میل [email protected] سے ذریعے رجوع کیا جاسکتا ہے۔
چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے کمیشن کے لیے سیکرٹریٹ فراہم کردیا جو سندھ ہائیکورٹ میں ہی قائم کیا گیا ہے۔
جوڈیشل کمیشن کے جج جسٹس آغا فیصل نے کمشنر کراچی کو اسٹاف نوٹیفائی کرنے کی ہدایت کردی جس میں رجسٹرار کمیشن، فوکل پرسن، ماہرین شامل ہوں گے۔














