سعودی عرب، امریکا، روس سمیت کئی ممالک کی اسلام آباد میں خودکش حملے کی مذمت
سعودی عرب، امریکا، روس اور ایران سمیت کئی ممالک نے اسلام آباد میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جاں بحق اور زخمی افراد سے ہمدردی اور پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان میں تعینات امریکی سفیر نیٹلی بیکر آج اسلام آباد میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں بے گناہ نمازی جاں بحق اور زخمی ہوئے، امریکا اس واقعے سمیت ہر قسم کی دہشت گردی اور تشدد کی مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے میں اس حملے میں زخمی اور جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتی ہوں۔ شہریوں اور عبادت گاہوں کے خلاف دہشت گردی اور انہیں نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ پاکستانی عوام حفاظت اور وقار کے ساتھ ، خوف کے بغیر اپنے عقیدے پر عمل کرنے کے حقدار ہیں۔
نیٹلی بیکر نے مزید کہا کہ امریکا امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور استحکام کے لیے اپنی شراکت داری پر قائم ہے۔ ہم اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ترلائی میں خودکش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نمازِ جمعہ میں ہونے والے خوفناک حملے پر شدید غم و غصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد حملے سے دل ٹوٹ گیا ہے اور ان کی دعائیں جاں بحق اور زخمی افراد کے ساتھ ہیں۔
جین میریٹ نے دہشت گردی کے واقعے کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت اور عوام کی جانب سے اسلام آباد میں نمازِ جمعہ کے دوران مسجد میں ہونے والے خود کش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ اس گھناؤنے حملے کے نتیجے میں درجنوں بے گناہ شہری شہید اور زخمی ہوئے۔ ایرانی سفیر نے حکومتِ پاکستان، عوامِ پاکستان اور بالخصوص سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ہماری دعائیں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا جب کہ زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے بھی دعاگو ہیں۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہدا کو اپنی رحمتوں میں جگہ دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے بھی اسلام آباد میں خود کش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
آسٹریلوی ہائی کمشنر نے کہا کہ مسجد پر ہولناک حملے پر شدید صدمہ اور افسوس ہوا، میری ہمدردیاں تمام متاثرین اوران کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں، اس مشکل گھڑی میں آسٹریلیا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور سوگ میں برابر کا شریک ہے۔
سعودی عرب نے بھی اسلام آباد میں خود کش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اسلام آباد دھماکے پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کو تعزیتی خطوط بھیجے گئے ہیں۔
اپنے خطوط میں روسی صدر نے اسلام آباد دھماکے میں ہونے والے جانی نقصان پر صدر مملکت اور وزیر اعظم سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ مذہبی اجتماع کے دوران شہریوں کا قتل بربریت کا ثبوت ہے۔
روسی صدر نے اپنے خط میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
روسی صدر پیوٹن نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔اس کے علاوہ کینیڈا، سوئیڈن، اٹلی اور بیلجیئم نے بھی اسلام آباد میں خود کش دھماکے کی مذمت کی ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں نمازِ جمعہ کے دوران امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 31 افراد شہید اور 160 سے زائد ہوگئے۔
پولیس کے مطابق نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ آور نے امام بارگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے وہاں موجود افراد نے روکا جس پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس حوالے سے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ دھماکے سے قبل فائرنگ ہوئی تھی جس کے فوراً بعد دھماکا ہوگیا۔
دھماکے کے بعد پولیس اور فوج کے دستوں اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، تمام زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کر دیا گیا، تمام اسپتالوں میں ہنگامی صورتِ حال نافذ کر دی گئی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق خودکش بمبار کی شناخت ہوچکی ہے، خود کش بمبار نے افغانستان سے دہشت گرد کارروائیوں کی تربیت حاصل کی اور متعدد بار افغانستان کا سفر کر چکا ہے۔
حکومتی ذرائع نے بتایاکہ افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد گروہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں خطےکی سلامتی کےلیےخطرہ ہیں، پاکستان میں ہر دہشتگردانہ کارروائی کے پس پشت افغانستان اور بھارت کا گٹھ جوڑ ہے۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔