سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات: جسٹس آغا فیصل جوڈیشل کمیشن کے جج نامزد
چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ ظفر احمد راجپوت نے کراچی میں سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیتے ہوئے جسٹس آغا فیصل کو جوڈیشل کمیشن کا جج نامزد کردیا ہے۔
بدھ کو سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ گل پلازہ کے حقائق عوام کے سامنے لانے کے لیے جوڈیشل انکوائری کا حکم دیتے ہوئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔
چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ ظفر احمد راجپوت نے جسٹس آغا فیصل کو جوڈیشل کمیشن کا جج نامزد کیا ہے۔ جسٹس آغا فیصل پر مشتمل سنگل ممبر کمیشن سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات اور اور آگ لگنے کی وجوہات معلوم کرے گا جب کہ سانحے کی انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن کی مدت کا تعین سندھ حکومت کرے گی۔
واضح رہے کہ 17 جنوری بروز ہفتے کی رات 10 بج کر 15 منٹ پر کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ لگی تھی، جس کے نتیجے میں 79 افراد جل کر جاں بحق اور 12 شدید زخمی ہوئے تھے، آگ اس قدر شدید تھی کہ مرنے والوں کی شناخت ڈی این اے سے بھی کرنا مشکل تھا جب کہ 7 افراد کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی، ورثا اپنے پیاروں کی لاشوں کے ابتک منتظر ہے۔
جس کے بعد سندھ حکومت نے کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی کراچی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی، جس نے متعدد افراد کے بیانات قلمبند کیے، اس دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی سربراہی میں سینئر وزرا پر مشتمل کابینہ کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
کمشنر کراچی کی رپورٹ آنے کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کیا گیا، جس کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں قائم سب کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ تحفظا ت دور کرنے کے لیے سندھ حکومت ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن کے قیام کا کہے گی۔
یاد رہے کہ سندھ حکومت نے 29 جنوری کو سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کے لیے جوڈیشنل کمیشن بنانے کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھا تھا۔ بعدازاں سندھ حکومت کے خط ملنے کے بعد چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے آج 4 فروری کو جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں جوڈیشنل کمیشن قائم کردیا ہے۔
جوڈیشنل کمیشن سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ سندھ حکومت کو ارسال کرے گا، جس کی روشنی میں اہم شخصیات کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا اور ذمہ داران کا تعین کرے گا۔















