ڈیل طے نہ ہوئی تو ایران کے لیے برے نتائج ہوں گے: صدر ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کہا بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب گامزن ہے، اگر ڈیل طے نہ ہوئی تو ایران کے لیے برے نتائج ہوں گے۔
منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحری جہاز اس وقت ایران کی سمت بڑھ رہے ہیں اور یہ دنیا کے سب سے بڑے اور طاقتور جہاز ہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق، ایک طرف فوجی تیاری جاری ہے جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ مذاکرات بھی ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دیکھا جائے گا کہ بات چیت کس سمت جاتی ہے اور اگر کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تو پھر حقیقت سامنے آ جائے گی۔
صدر ٹرمپ سے جب آیت اللہ خامنہ ای کے بیان پر ردعمل پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات آنا غیر معمولی بات نہیں اور کوئی بھی رہنما اس طرح کی بات کہہ سکتا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اتوار کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے جنگ شروع کی تو یہ تنازع پورے خطے میں پھیل سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کی خواہش ہے کہ ایسا معاہدہ ہو جس کے تحت ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ ایران واقعی اس پر آمادہ ہو گا یا نہیں۔
قبل ازیں، آیت اللہ علی خامنہ ای نے سرکاری میڈیا پر کہا تھا کہ امریکا کو یہ سمجھ لینا چاہیے اگر اس نے جنگ شروع کی تو یہ محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی دھمکیاں کوئی نئی بات نہیں اور ماضی میں بھی ایسی باتیں کی جاتی رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام ان دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے اور ایران جنگ شروع کرنے والا ملک نہیں، لیکن اگر اس پر حملہ کیا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایران کی فوج کے سربراہ جنرل امیر حاتمی نے بھی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک اس وقت اعلیٰ سطح کی دفاعی تیاری میں ہے اور خطے میں دشمنوں کی ہر حرکت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق، اگر کسی نے غلطی کی تو اس کے نتائج نہ صرف اس کے اپنے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہوں گے۔
ایران کی پارلیمان میں بھی سخت بیانات سامنے آئے، جہاں اسپیکر نے کہا کہ یورپی یونین کی فوجی قوتیں اب اسلامی جمہوریہ ایران کی نظر میں دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔
یہ بیان یورپی یونین کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کو دہشت گرد قرار دیے جانے کے بعد آیا ہے۔
تاہم، ایران کے کچھ اعلیٰ حکام نے نرم مؤقف بھی اختیار کیا ہے۔ سابق پارلیمانی اسپیکر اور سینیئر سیکیورٹی اہلکار علی لاریجانی نے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے ڈھانچہ جاتی انتظامات آگے بڑھ رہے ہیں۔
اسی دوران ایران کو اندرونی سطح پر بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ہفتے کے روز ملک کے مختلف حصوں میں دو دھماکے ہوئے۔
ایک دھماکا جنوبی بندرگاہ بندر عباس میں ہوا، جس میں چار سالہ بچی جاں بحق اور 14 افراد زخمی ہوئے۔
دوسرا دھماکا ایک ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلے پر واقع شہر اہواز میں ہوا، جہاں سرکاری میڈیا کے مطابق پانچ افراد ہلاک ہوئے۔
ایرانی حکومت نے ان دھماکوں میں عسکری قیادت کو نشانہ بنائے جانے کی تردید کی ہے۔














