ایران کا روس اور چین کے ساتھ مشترکہ بحری مشقوں کا اعلان
ایران نے فروری کے آخر میں چین اور روس کے ساتھ شمالی بحرِ ہند میں مشترکہ بحری مشقیں کرنے کا اعلان کیا ہے. یہ مشقیں ایسے وقت میں ہورہی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور امریکی بحری بیڑا بھی خطے میں موجود ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق مشترکہ بحری مشقوں ’میری ٹائم سیکیورٹی بیلٹ‘ 2019 میں ایرانی بحریہ کی درخواست پر شروع ہوئی تھیں اور اب تک یہ مشقیں سات مرتبہ منعقد ہو چکی ہیں۔
تینوں ممالک نے اس بار ان مشقوں کے لیے شمالی بحرِ ہند کے علاقے کا انتخاب کیا ہے جس میں تینوں ممالک کے بحری بیڑے حصہ لیں گے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ان مشقوں کا مقصد عالمی بحری تجارت کی حفاظت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے تحت تینوں ممالک کی بحری افواج قزاقی کے خلاف کارروائیاں، بحری دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور بحری ہنگامی ریسکیو آپریشنز میں ایک دوسرے سے تعاون کرتی رہی ہیں۔
حالیہ بحری مشقیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب تعینات کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے مذاکرات کے لیے رضامندی نہ دکھائی تو امریکا کی جانب سے حملہ جون میں کیے گئے حملے سے بھی زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے مسلسل دھمکیوں اور دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مذاکرات صرف اس وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب وہ منصفانہ اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہوں۔
ایرانی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر امریکا یا اس کے اتحادیون کی جانب سے ایران پر حملہ کیا گیا تو فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔















