یورپی یونین نے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا
یورپی یونین نے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز (پاسدارانِ انقلاب) کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس فیصلے کو یورپ کی ایک اور بڑی اسٹریٹجک غلطی قرار دیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق یورپی یونین نے پاسدارانِ انقلاب کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالس نے کہا ہے کہ یورپ نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے کیونکہ جبر اور تشدد کا جواب دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد پاسدارانِ انقلاب کو القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کے برابر تصور کیا جائے گا۔
کاجا کالس نے کہا کہ اس فیصلے کے باوجود وہ توقع کرتی ہیں کہ ایران کے لیے سفارتی راستے کھلے رہیں گے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر جاری بیان میں یورپ پر شدید تنقید کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت خطے میں کشیدگی کو ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، مگر ان کوششوں میں کوئی بھی یورپی ملک شامل نہیں بلکہ وہ حالات کو مزید خراب کرنے میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکا کی خواہش پر ’اسنیپ بیک‘ میکانزم کو آگے بڑھانے کے بعد اب یورپ ایک اور بڑی اسٹریٹجک غلطی کر رہا ہے، جس کے تحت ایران کی قومی فوج کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے یورپ کے رویے کو کھلی منافقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے ہونے والی نسل کشی پر یورپ نے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جبکہ ایران کے معاملے میں انسانی حقوق کے نام پر سیاست کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف یورپ کی تشہیری مہم ہے جو دراصل اس حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے کہ وہ عالمی دنیا میں شدید زوال کا شکار ہو چکا ہے۔
عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں مکمل جنگ چھڑتی ہے تو اس کے سنگین اثرات یورپ پر بھی پڑیں گے، جس میں توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ اور دیگر معاشی مسائل بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کا موجودہ مؤقف خود یورپی ممالک کے مفادات کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ یورپی عوام اس سے کہیں بہتر قیادت اور پالیسیوں کے حق دار ہیں جو اس وقت انہیں میسر ہیں۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ چکی ہے۔ امریکا نے اپنے بحری بیڑے بھی ایران کی جانب روانہ کردیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے سے متعلق متعدد بیانات سامنے آچکے ہیں۔ گزشتہ روز بھی انہوں نے دھمکی دی تھی کہ امریکا کی جانب سے ایران پر اگلا حملہ پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔ دوسری جانب ایران بھی صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر رد عمل دیتے ہوئے واضح کر چکا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو ایران ایسا جواب دے گا جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیا گیا۔
















