پی آئی اے حوالگی: نجکاری کمیشن اور عارف حبیب کنسورشیم میں معاہدہ

عارف حبیب کنسورشیم حکومت کے ساتھ اپنا بزنس پلان شیئر کرے گا جب کہ حکومت اپنا پلان پہلے ہی نئے کنسورشیم کے حوالے کر چکی ہے.
اپ ڈیٹ 29 جنوری 2026 07:39pm

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی کامیاب نجکاری کے بعد کمیشن اور عارف حبیب کنسورشیم میں معاہدہ طے پاگیا ہے، عارف حبیب کنسورشیم حکومت کے ساتھ اپنا بزنس پلان شیئر کرے گا جب کہ حکومت اپنا پلان پہلے ہی نئے کنسورشیم کے حوالے کر چکی ہے۔

قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں نجکاری کمیشن اور کامیاب کنسورشیم کے درمیان باضابطہ معاہدہ طے پاگیا ہے۔

یہ پیش رفت قومی اسمبلی کی نجکاری سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آئی جس کی صدارت فاروق ستار نے کی۔ اجلاس میں سیکرٹری نجکاری کمیشن نے کمیٹی کو پی آئی اے کی نجکاری کے عمل، معاہدے اور آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔

سیکرٹری نجکاری کمیشن کے مطابق کامیاب کنسورشیم حکومت کے ساتھ اپنا بزنس پلان شیئر کرے گا جب کہ حکومت کی جانب سے اپنا منصوبہ پہلے ہی نئے کنسورشیم کو فراہم کیا جاچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بزنس پلان کی تیاری مکمل ہونے کے بعد قائمہ کمیٹی بھی کنسورشیم سے بریفنگ لے سکتی ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پی آئی اے کے تمام انتظامی اور آپریشنل معاملات اب سول ایوی ایشن اتھارٹی کو منتقل ہوچکے ہیں جب کہ متعلقہ ریگولیٹری ادارے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے عارف حبیب کو کلیئر کیا۔

سیکرٹری نجکاری کمیشن نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ نجکاری کمیشن نے 20 سال کے بعد کوئی کامیاب نجکاری کی، جسے ایک بڑی کامیابی سمجھا جارہا ہے۔ اس موقع پر کمیٹی کے چیئرمین فاروق ستار نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اس سے قبل صرف ’’پچکاری‘‘ ہورہی تھی، اب جاکر حقیقی معنوں میں نجکاری ہوئی ہے۔

اجلاس کے دوران رکن کمیٹی نعمان اسلام شیخ نے سوال اٹھایا کہ آیا حکومت گزشتہ سال کی بولی پر ہی کھڑی ہے یا اس معاہدے سے کوئی اضافی فائدہ حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پہلو پر بھی واضح بریفنگ دی جائے۔

فاروق ستار نے اس بات پر زور دیا کہ نجکاری کمیشن اس پورے عمل کی مانیٹرنگ کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کنسورشیم نے کن کن شرائط پر عملدرآمد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی شرائط پر مکمل عملدرآمد کی گارنٹی ہونی چاہیے تاکہ قومی مفادات کا تحفظ کیا جاسکے۔

سیکرٹری نجکاری کمیشن نے تصدیق کی کہ پی آئی اے کے کامیاب بولی دہندہ کے ساتھ آج باضابطہ معاہدہ ہوگیا ہے اور نئے مالکان ایئرلائن کے لیے نیا بزنس پلان تیار کررہے ہیں۔

قائمہ کمیٹی نے نجکاری کے عمل میں شفافیت، نگرانی اور طے شدہ شرائط پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملے پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی آئی اے نجکاری کی دستاویزات پر دستخط کی تقریب

دوسری جانب پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجکاری کے حوالے سے حکومت اور عارف حبیب کنسروشیم کے مابین ٹرانزیکشن کے دستاویزات پر دستخط و تبادلے کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل آج انجام کو پہنچا، پی آئی اے کی نجکاری شفاف انداز میں کی گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ عارف حبیب اور ٹیم کو ان کی ذاتی طور پر جانتا ہوں، ملکی ترقی کے لیے عارف حبیب کی کارکردگی نمایاں ہے، 60 کی دہائی میں پی آئی اے اپنے عروج پر تھا، یقین ہے عارف حبیب پی آئی اے کو دوبارہ عروج پر لے جائیں گے، فیلڈ مارشل اور حکومتی وزرا کو مبارک باد دیتا ہوں۔

یاد رہے کہ اس کنسورشیم نے دسمبر گزشتہ سال پی آئی اے کے 75 فیصد حصص 135 ارب روپے میں خریدنے کی بولی جیتی تھی۔