بانی رکن بننے پر ’بورڈ آف پیس‘ کا پاکستان کے نام پیغام
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے 23 جنوری کو سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی رہنماؤں کے ساتھ ’بورڈ آف پیس‘ کے چارٹر پر دستخط کر کے پاکستان کو اس بین الاقوامی تنظیم کا بانی رکن بنایا۔ جس پر بورڈ آف پیس کی جانب سے پاکستان کو مبارکباد دی گئی ہے۔
بدھ کو سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر بورڈ آف پیس کے آفیشل اکاؤنٹ سے پاکستان کے نام ایک پیغام جاری کیا گیا۔
اس پیغام میں کہا گیا کہ ”بورڈ آف پیس پاکستان کو اپنی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنظیم کا بانی رکن بننے پر خوش آمدید کہتا ہے۔“
بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کی تقریب ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے دوران منعقد ہوئی، جس میں 19 ممالک کے سربراہان اور سینئر حکام شریک تھے۔
اس تقریب میں پاکستان کے علاوہ ارجنٹینا، آرمینیا، آذربائیجان، بحرین، بلغاریہ، ہنگری، انڈونیشیا، اردن، قازقستان، کوسوو، منگولیا، مراکش، پیراگوئے، قطر، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور ازبکستان نے بھی شرکت کی۔
تقریب میں مختلف ممالک کے سربراہان نے باری باری چارٹر پر دستخط کیے۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس کمرے میں موجود ہر شخص ’اسٹار‘ ہے اور امن کے لیے استعمال ہونے والی صلاحیت دشمن قوتوں کو ناکام بنا دے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ تشکیل کے بعد یہ بورڈ عالمی سطح پر بہت سے فیصلے کرسکتا ہے اور اسے اقوام متحدہ کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت چلایا جائے گا۔
بورڈ آف پیس کا قیام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے منظور کیا گیا ہے اور اس کا اصل مقصد غزہ کی تعمیر نو ہے، تاہم اب اس بورڈ کا دائرہ کار عالمی سطح پر امن قائم کرنے اور تنازعات حل کرنے تک پھیلایا جا رہا ہے۔
اگرچہ اسرائیل کے وزیراعظم نے بورڈ میں شمولیت کی تصدیق کی تھی، تاہم، وہ تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔
دیگر بڑی طاقتیں جیسے فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور چین ابھی تک بورڈ آف پیس میں شامل نہیں ہوئی ہیں اور بعض نے دعوت کو مسترد بھی کیا۔
اس تقریب میں امریکا کے ساتھ ساتھ بورڈ کے ایگزیکٹو رکن مارکو روبیو، اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر، اپولو کے سی ای او مارک روان، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اور سیکیورٹی ٹرمپ کے ایڈوائزر رابرٹ گیبریل شامل تھے۔
اس موقع پر امریکا نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک منصوبہ بھی پیش کیا، جس میں بحیرہِ روم کے کنارے شاندار ہوٹلز اور اپارٹمنٹس کی تصویر کشی کی گئی۔ اس منصوبے کے مطابق اگلے چند سالوں میں غزہ کو ایک جدید سیاحتی مقام میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی، بشرطیکہ حماس اپنی ہتھیار ڈال دے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے دستخط کے بعد کہا کہ پاکستان عالمی امن اور انسانی بہبود میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور بورڈ کے ساتھ تعاون کرے گا تاکہ غزہ کی تعمیر نو اور امن قائم رہ سکے۔















