’پاکستان میں اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں‘؛ آئی ایم ایف سربراہ
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کو سنجیدگی سے اپنانے پر تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ ان اقدامات کے نتائج اب سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ نظم و ضبط بہتر ہونے سے ایسے وسائل میسر آ رہے ہیں جنہیں عوام کی زندگی بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر ’پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے اصلاحات کو سنجیدگی سے اپنایا ہے اور ان اقدامات کے ثمرات واضح ہیں۔
ان کے مطابق بجٹ میں نظم و ضبط کے باعث مالی وسائل پیدا ہو رہے ہیں جو عوامی فلاح پر خرچ کیے جا سکتے ہیں۔
آئی ایم ایف سربراہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کی پاکستان کے ساتھ کافی عرصے سے تعمیری مشاورت جاری ہے اور انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی سنجیدگی کی تعریف کی۔
ان کا کہنا تھا کہ جب وزیراعظم کسی کام کا وعدہ کرتے ہیں تو وہ مکمل ہو کر رہتا ہے۔
کرسٹالینا جارجیوا کے مطابق پاکستانی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں نتیجہ خیز رہیں جن میں اب تک کی پیش رفت اور ان شعبوں پر بات ہوئی جہاں مزید کام کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہی طریقہ کار حالیہ ملاقاتوں میں بھی اختیار کیا گیا۔
آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر نے وزیراعظم اور ان کی کابینہ کی بھی تعریف کی اور کہا کہ وہ ملک کی بہتری کے لیے مشکل مگر ضروری اصلاحات کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ ہیں، حالانکہ ان اصلاحات کے سیاسی اثرات بھی ہوتے ہیں۔
ان کے یہ بیانات ایک روز قبل وزیراعظم شہباز شریف سے ڈیووس میں ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آئے، جس میں وزیراعظم نے پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی صورتحال پر بریفنگ دی۔
وزیراعظم نے آئی ایم ایف سربراہ کو معاشی اشاریوں میں بہتری، استحکام کے لیے اقدامات اور ادارہ جاتی اصلاحات پر ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم نے اس موقع پر مالیاتی نظم و ضبط، ریونیو بڑھانے اور پائیدار ترقی کے لیے پاکستان کے عزم کو دہرایا۔
آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر نے ان اصلاحات کا اعتراف کیا اور اب تک کی پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ طویل المدتی معاشی استحکام کے لیے اصلاحات کی رفتار برقرار رکھنا ضروری ہے۔
دونوں فریقین کے درمیان عالمی معاشی صورتحال، ابھرتی معیشتوں کو درپیش چیلنجز اور عالمی سطح پر معاشی استحکام کے لیے باہمی تعاون کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
















