’محدود حملے کو بھی جنگ تصور کیا جائے گا‘: ایران کا امریکا اور اسرائیل کو پیغام

بدترین صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوج مکمل طور پر تیار ہے: ایرانی حکام
شائع 24 جنوری 2026 08:33am

ایران نے امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کی سرزمین پر کسی بھی نوعیت کا حملہ چاہے وہ محدود ہو یا سرجیکل نوعیت کا ہو، مکمل جنگ تصور کیا جائے گا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی نقل و حرکت کے پیش نظر ملک بھر میں ہائی الرٹ نافذ ہے اور بدترین صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوج مکمل طور پر تیار ہے۔

حکام کے مطابق کسی بھی قسم کی جارحیت برداشت نہیں کی جائے گی اور فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے چیف کمانڈر جنرل محمد پاکپور نے بھی گزشتہ روز اپنے بیان میں امریکا اور اسرائیل کو کسی بھی ممکنہ مہم جوئی سے باز رہنے کی سخت وارننگ دی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ایرانی افواج مکمل طور پر الرٹ ہیں اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے احکامات پر فوری عمل کے لیے تیار ہیں۔

جنرل پاکپور کے مطابق ایران کی مسلح افواج کی انگلیاں ٹریگر پر ہیں اور کسی بھی خطرے کی صورت میں بغیر تاخیر کے جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے امریکا اور اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ دشمنوں کو گزشتہ بارہ روزہ جنگ سے سبق سیکھنا چاہیے تاکہ مستقبل میں مزید سنگین اور دردناک نتائج سے بچا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنے دفاعی نظام اور قومی سلامتی کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط بنا لیا ہے۔

ایرانی کمانڈر نے واضح کیا تھا کہ اگر ایران پر کسی بھی قسم کا حملہ کیا گیا تو اس کا جواب انتہائی سخت اور تباہ کن ہوگا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں بھرپور دفاع اس کی مستقل پالیسی کا حصہ ہے۔

Israel

Iran

IRANIAN REVOLUTIONARY GUARDS

Attack On Iran

US attack on Iran

Iran Unrest

Iran Protests