گُل پلازہ میں ہولناک آگ، سانحہ یا سازش؟
کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گُل پلازہ شاپنگ سینٹر میں آگ لگنے کی وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی ہے۔ البتہ سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور سندھ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے وہ افواہوں پر کان نہ دھریں۔
سترہ جنوری کی شب گُل پلازہ میں جس وقت آگ لگی، اس وقت کئی دکاندار اپنی دکانیں بند کرکے جاچکے تھے اور مارکیٹ کے بیشتر داخلی و خارجی راستے بند کیے جاچکے تھے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ مارکیٹ میں سوا دس بجے کے درمیان آگ لگی جو دیکھتے ہی دیکھتے پھیلتی چلی گئی۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ آگ عمارت میں موجود لوگوں کو باہر نکلنے کا موقع بھی نہ ملا۔
آگ کے اس قدر تیزی سے پھیلنے کے باعث سوشل میڈیا پر افواہوں اور قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے۔ جس میں عام صارفین کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران کے بیانات بھی شامل ہیں۔ جس سے اس سانحے کے حوالے سے کئی سازشی نظریات نے بھی جنم لیا ہے۔
جمعرات کے روز تفتیشی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ گُل پلازہ میں آگ شارٹ سرکٹ کے باعث نہیں لگی بلکہ ممکنہ طور پر ماچس یا لائٹر سے لگی ہے۔
تفتیشی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آگ سب سے پہلے مصنوعی پھولوں کی دکان میں لگی تھی، جہاں دکان کے مالک کے دو بچے ماچس سے کھیلنے میں مصروف تھے۔ اسی دوران ماچس کی جلتی ہوئی تیلی دکان میں موجود کیمیکل کے قریب گری جس سے دکان میں آگ بھڑک اٹھی۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گُل پلازہ کے دورے کے موقع پر میڈیا کو بتایا تھا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ گراؤنڈ فلور پر پھولوں کی دکان میں لگی تھی جو پھیلتی چلی گئی۔
انہوں نے کہا تھا کہ کمشنر کراچی کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو واقعے کی تحقیقات کرے گی اور جو بھی قصوروار ہوا اسکے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔
سانحے کو پانچ روز گزرنے کے باوجود تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے تاحال حتمی رپورٹ سامنے نہیں آسکی ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض حلقے یہ دعویٰ کرتے نظر آرہے ہیں کہ آگ ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی جبکہ کچھ لوگ اسے دانستہ طور پر لگائی گئی آگ قرار دے رہے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ کے اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر متاثرہ خاتون دکاندار نے بتایا کہ ان کی گل پلازہ میں گارمنٹس کی دکان تھی، آگ لگی تو ان کی ناک سے خون بہنا شروع ہوگیا۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ آگ جس قدر تیزی سے پھیلی، یوں لگتا ہے جیسے کسی کیمیکل کے ذریعے لگائی گئی تھی۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے صحافی ارباب چانڈیو سے گفتگو میں آگ کے اچانک بھڑکنے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا اگر یہ واقعی تخریب کاری ثابت ہوتی ہے تو اس کے ذمہ داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے۔
اس کے علاوہ بھی سوشل میڈیا پر کئی سازشی نظریات زیرِ گردش ہیں جس میں اس واقعے کو بھتے سے انکار پر تخریب کاری کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم اس طرح کے تمام دعوؤں کی کوئی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
وفاقی وزیر اور ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے اس سانحے پر سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کوئی ضمانت نہیں دے سکتی کہ یہ گل پلازہ کا واقعہ کراچی کا آخری سانحہ ہوگا۔
سندھ حکومت کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے جمعرات کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ چند سیاسی جماعتیں سانحہ گل پلازہ پر سیاست کر رہی ہیں، واقعے سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کی حتمی رپورٹ نہیں آجاتی، اس بارے میں کچھ کہنا قبل اَزوقت ہوگا۔
سانحہ گل پلازہ؛ پہلی برطرفی
سانحہ گُل پلازہ کے بعد سندھ حکومت نے میونسپل کمشنر کراچی افضل زیدی کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں افضل زیدی کو سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈی نیشن ڈپارٹمنٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
میونسپل کمشنر بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) کا چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور انتظامی سربراہ ہوتا ہے۔ جس کی ذمہ داریوں میں کے ایم سی کے تمام افسران اور ملازمین کے کام کی نگرانی اور نظم و ضبط برقرار رکھنا شامل ہوتا ہے۔
میونسپل کمشنر افضل زیدی کی برطرفی کے بعد گریڈ 19 کی افسر سمیرا حسین کو اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔
سانحہ گُل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک واقعے میں اب تک 62 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ سندھ حکومت کے مسنگ پرسنز کے لیے قائم ہیلپ ڈیسک میں اب تک 77 افراد کا نام شامل ہے۔ اس سے قبل 88 افراد کی فہرست جاری کی گئی تھی، جس کے بعد 13 لاشوں کو ورثا کے حوالے کردیا گیا ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق اب تک نکالی جانے والی تمام 62 لاشوں اور انسانی باقیات کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے جن کے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے جائیں گے۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے کہ شہری صرف مستند معلومات پر بھروسہ کریں اور سانحے سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہوں پر کان نہ دھریں۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عمارت کے جس حصے تک رسائی ممکن ہے، وہاں سرچ آپریشن مکمل ہو چکا ہے جب کہ زمیں بوس حصے میں بھی ریسکیو اور سرچنگ جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دروازے کیوں بند تھے اور اس کا سانحے سے کوئی تعلق ہے یا نہیں، اس پہلو کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ شہری صرف مستند معلومات پر بھروسہ کریں اور سانحے سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہوں پر کان نہ دھریں۔












