گل پلازہ میں آگ کیسے لگی، ذمہ دار کون ہے؟ تحقیقاتی کیمٹی کا اجلاس طلب

اجلاس کی صدارت کمشنر کریں گے جبکہ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔
شائع 19 جنوری 2026 11:58pm

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی ہدایت پر کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ سے متعلق قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں آتشزدگی کی وجوہات اور کوتاہیوں کا تعین کیا جائے گا۔

سانحہ گل پلازہ میں آگ لگنے کی وجوہات اور ممکنہ ذمہ داروں کے تعین کے لیے قائم تحقیقاتی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج ہوگا۔ اجلاس کی صدارت کمشنر کریں گے جبکہ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق، اجلاس میں آتشزدگی کی وجوہات، حفاظتی اقدامات میں ممکنہ کوتاہیوں اور ذمہ داران کے تعین پر غور کیا جائے گا۔ دیگر متعلقہ افسران کو کمیٹی میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی پہلے اجلاس میں کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی وزیراعلیٰ کی ہدایت پر قائم کی گئی ہے اور کمیٹی اپنی ابتدائی رپورٹ کی تیاری کا عمل بھی شروع کرے گی۔

اس سے قبل وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ یہ سانحہ کسی بڑے المیے سے کم نہیں ہے، تاجروں کے ساتھ طے ہوا ہے کہ تمام مارکیٹوں میں فائر الارم لگائے جائیں گے۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ حکومت جوڈیشل انکوائری کے لیے تیار ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے وزیراعلیٰ کوحکم دیا ہے، سندھ حکومت یہ معاملہ فوری حل کرے گی۔

واضح رہے کہ پیر کے روز گل پلازہ میں آتشزدگی کے سانحے کی گونج سندھ اسمبلی تک بھی پہنچی، جہاں اجلاس شدید ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا۔ سعید غنی کی تقریر کے دوران ایم کیو ایم کے ارکان نے ایوان کی کاروائی کا واک آوٹ کردیا۔

وزیرِ بلدیات سعید غنی کا خطاب شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے، شور شرابے کے دوران اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کیا گیا اور حکومت مخالف نعرے بازی کی گئی۔

اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ اس سانحے نے سترہ سالہ حکومتی کارکردگی کو بے نقاب کر دیا ہے، جب کہ جماعتِ اسلامی کے رکن محمد فاروق نے واقعے پر تحریکِ التوا جمع کرائی۔

خیال رہے کہ ہفتے کی رات کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ نے قیامت ڈھا دی، جس کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی اور 28 افراد زخمی ہیں۔

ملبے سے ملنے والی کئی لاشیں ناقابل شناخت ہیں، تاہم 70 لاپتہ افراد کی فہرست جاری کردی گئی ہے جب کہ مخدوش عمارت کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ ہے۔

گل پلازا کے اطراف آگ کی شدت کے باعث ملحقہ رمپا پلازا کے ستون بھی دراڑیں پڑنے سے ٹیڑھے ہوگئے، پولیس کی جانب سے گل پلازہ اور رمپا پلازہ سے دوررہنے کے اعلانات میں خبردار کیا گیا کہ عمارتیں کسی بھی وقت گرسکتی ہیں۔

Nasir Hussain

inquiry

CM Murad Ali Shah

Investigation Committee

Gul Plaza Fire

Karachi Fire Incidents

gul plaza incident