سانحہ گل پلازہ: چار بچوں کے باپ اور ایک ہی گھر کی 3 خواتین کا پتہ نہ چل سکا
کراچی میں گل پلازہ سانحہ ایک اور گھر کی خوشیاں لے گیا، تیسرے روز بھی ایک ہی گھر کی 3 خواتین کا کوئی سراغ نہ مل سکا، لواحقین کو ریسکیو آپریشن کی رفتار پر شدید تحفظات ہیں جب کہ سکھر سے خریداری کے لیے کراچی آںے والے 4 بچوں کے باپ محمد اطہر کا بھی تاحال کوئی سراغ نہ مل سکا۔
کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ واقع گل پلازہ میں 2 روز قبل لگنے والی آگ نے کئی گھرانے اجاڑ دیے ہیں، جس کے باعث ایک ہی گھر کی تین خواتین بھی شعلوں کی نذر ہوگئی ہیں۔
گھر کے سربراہ قیصر کا کہنا ہے کہ اہلیہ، بہو اور بہن کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ بے بسی کی تصویر بنے قیصر نے انتظامیہ کی غفلت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اگر ریسکیو بروقت کارروائی کرتا تو اتنا بڑا نقصان نہ ہوتا۔
شاپنگ سینٹر کے باہر متاثرہ خاندان اب تک اپنے پیاروں کی راہ تک رہے ہیں، لواحقین کے دل کسی معجزے کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔
دوسری جانب سانحہ گل پلازہ میں سکھر سے خریداری کے لیے کراچی آںے والے 4 بچوں کے باپ محمد اطہر کا بھی تاحال کوئی سراغ نہ مل سکا۔
اطہر کے قریبی رشتے دار نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ محمد اطہر ہفتے کے روز سکھر سے کراچی گئے تھے اور گل پلازہ میں گھر اور بچوں کے سامان کی خریداری کررہے تھے، جن کی آخری بار میری بہن سے بات ہوئی تھی اور انہوں نے بتایا تھا کہ گل پلازہ میں آگ لگ چکی ہے اور ہمیں کچھ نظر نہیں آرہا، ہمارے لیے دعا کریں جس کے بعد ان کا موبائل فون بند ہے۔
اہل خانہ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ہے محمد اطہر کو تلاش کیا جائے، محمد اطہر کی فیملی حادثے کا سنتے ہی پہلے ہی کراچی روانہ ہو چکی تھی۔
واضح رہے کہ کراچی کے گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں لگنے والی ہولناک آگ 40 گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بجھائی نہ جا سکی، جس کے نتیجے میں اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہو گئی ہے جب کہ کئی افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔













