ٹرمپ کی پاکستان کے ساتھ بھارت کو بھی ’غزہ پیس بورڈ‘ میں شمولیت کی دعوت، فیس کیا ہوگی؟

نئی دہلی کی جانب سے اس بیان پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
شائع 19 جنوری 2026 11:03am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں امن اور تعمیر نو کے لیے قائم کیے گئے بین الاقوامی ’بورڈ آف پیس‘ کی سربراہی کرتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو اس ادارے میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ اس پیش رفت کو واشنگٹن کی جانب سے غزہ کے مستقبل کے انتظام اور امن عمل میں عالمی قیادت کو شامل کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اتوار کو پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ایک مختصر بیان میں تصدیق کی کہ پاکستان کے وزیراعظم کو امریکی صدر کی جانب سے بورڈ آف پیس آن غزہ میں شمولیت کی دعوت موصول ہو گئی ہے۔

طاہر اندرابی کے مطابق پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کے لیے پُرعزم ہے اور فلسطین کے مسئلے کے پائیدار حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

تاہم اس دعوت کے وقت اور پاکستان کی ممکنہ شرکت کی نوعیت سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب امریکا کے بھارت میں ایلچی سرجیو گور نے بھی اتوار کو کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے نریندر مودی کو اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت پہنچا دی گئی ہے۔

ان کے مطابق یہ بورڈ غزہ میں دیرپا امن لانے اور مؤثر حکمرانی کے ذریعے استحکام اور خوشحالی کے حصول میں مدد دے گا۔

نئی دہلی کی جانب سے اس بیان پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق بورڈ آف پیس ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کا مستقل خاتمہ، غزہ کی تعمیر نو، عالمی وسائل کو متحرک کرنا اور جنگ سے امن کی طرف منتقلی کے دوران شفاف نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔

اسی منصوبے کے تحت امریکا نے ’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ بھی قائم کی ہے، جو مرحلہ دوم پر عملدرآمد کرے گی، جبکہ ایک ’فاؤنڈر ایگزیکٹو بورڈ‘ اور ’غزہ ایگزیکٹو بورڈ‘ بھی تشکیل دیے گئے ہیں۔

امریکا نے ہفتے کے روز غزہ ایگزیکٹو بورڈ کے ابتدائی ارکان کے ناموں کا اعلان کیا، جن میں ترکیہ کے وزیر خارجہ، قطر کے ایک اعلیٰ عہدیدار، برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔

جس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے غزہ ایگزیکٹو بورڈ پر اپنے اعلیٰ مشیروں کا اجلاس بلایا، کیونکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ بورڈ کے ایک ذیلی ادارے کی تشکیل میں اس سے مشاورت نہیں کی گئی۔

نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق یہ عمل اسرائیل کی پالیسی کے خلاف ہے۔

بورڈ آف پیس کو عارضی طور پر غزہ کے انتظامی امور کی نگرانی اور تعمیر نو کے کام کی ذمہ داری دیے جانے کی توقع ہے، تاہم اس کے ڈھانچے اور اختیارات کی مکمل تفصیل تاحال واضح نہیں۔

غزہ ایگزیکٹو بورڈ زمینی سطح پر تمام انتظامی کاموں کی نگرانی کرے گا، جبکہ فاؤنڈر ایگزیکٹو بورڈ سرمایہ کاری اور سفارت کاری جیسے اعلیٰ سطحی معاملات پر توجہ دے گا۔

اس وقت غزہ ایگزیکٹو بورڈ میں واحد اسرائیلی رکن یاکیر گابے ہیں جو کہ ایک کاروباری شخصیت ہیں، جبکہ دونوں اعلیٰ بورڈز میں کوئی فلسطینی نمائندہ شامل نہیں ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق مرکزی بورڈ آف پیس عالمی رہنماؤں پر مشتمل ہوگا اور اس کی صدارت خود صدر ٹرمپ کریں گے۔

اگرچہ ارکان کے نام ابھی حتمی طور پر سامنے نہیں آئے، تاہم اطلاعات کے مطابق برطانیہ، ہنگری، ارجنٹینا، اردن، ترکیہ، بھارت اور مصر کے رہنماؤں کو دعوت دی گئی ہے۔

اب تک صرف ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان نے اس کردار کو قبول کرنے کی تصدیق کی ہے، جبکہ دیگر حکومتوں نے محتاط ردعمل دیا ہے۔

برطانیہ نے اس بورڈ کی نوعیت اور دائرہ کار پر مزید وضاحت طلب کی ہے۔

اسی دوران بلومبرگ نے رپورٹ کیا کہ امریکا کچھ ممالک سے بورڈ میں مستقل شمولیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی شراکت مانگ رہا ہے، تاہم امریکی حکام کے مطابق ممالک بغیر کسی ادائیگی کے بھی تین سالہ رکنیت حاصل کر سکتے ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران ابھی ختم نہیں ہوا۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق غزہ کی تقریباً 80 فیصد عمارتیں تباہ یا متاثر ہو چکی ہیں، جبکہ جنگ سے بچ جانے والے خاندان سرد موسم، خوراک اور پناہ کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔

امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اب تک کی امدادی کوششیں وقتی حل ثابت ہوئی ہیں۔

اسرائیل کا موقف ہے کہ وہ انسانی امداد میں سہولت فراہم کر رہا ہے اور اس نے اقوام متحدہ پر امداد کی تقسیم میں ناکامی کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ اسرائیل کے مطابق پابندیاں حماس کو امداد کے غلط استعمال سے روکنے کے لیے ہیں۔

Israel

Donald Trump

Gaza

PM Narendra Modi

PM Shehbaz Sharif

President Donald Trump

U.S. President Donald Trump

Gaza board

Gaza peace board