پیپلزپارٹی کا احتجاج: حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس واپس لے لیا

پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کا بائیکاٹ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا، شازیہ مری کی تصدیق
شائع 12 جنوری 2026 11:34pm

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے احتجاج کے بعد حکومت نے اسپیشل اکنامک زون ترمیمی آرڈیننس 2026 واپس لے لیا ہے، جس کے بعد پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کا بائیکاٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی تصدیق شازیہ مری نے کی ہے۔

قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کا احتجاج کام کر گیا، جس کے بعد حکومت نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اسپیشل اکنامک زونز (ترمیمی) آرڈیننس 2026 واپس لینے کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس واپس لینے کی سمری پر دستخط کر دیے، آرٹیکل 89(2)(b) کے تحت صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو آرڈیننس واپس لینے کا مشورہ دیا گیا۔

اسپیشل اکنامک زونز (ترمیمی) آرڈیننس 2026 قومی پالیسی سے ہم آہنگ نہ ہونے پر واپس لیا گیا جب کہ وزیراعظم آفس کی جانب سے آرڈیننس واپس لینے کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا، جس کے بعد ایس ای زیڈ ترمیمی آرڈیننس واپس لینے کا فیصلہ نافذ ہوگیا۔

اسپیشل اکنامک زون ترمیمی آرڈیننس کا معاملہ کیا؟

دوسری جانب اسپیشل اکنامک زون ترمیمی آرڈیننس کا معاملہ کیا تھا، اس کے حقائق سامنے آگئے، ای آفس پر پی ایم آفس اور ایوان صدر میں مختلف بل اور آرڈیننس کی منظوری لی گئی ہے۔

ذرائع وزارت قانون کے مطابق ایوان صدر سے فائلیں واپس پہنچی تو دیکھا گیا تو اسپیشل اکنامک زونز والے آرڈیننس پر صدر زرداری کے دستخط نہیں تھے، جب بلز اور آرڈیننس پرنٹنگ کے مراحل میں چلے گئے تو معاملے کی نشاندہی ہوئی۔

حکومت نے پیپلز پارٹی کے اعتراض پر آرڈیننس واپس لینے کے لیے صدر کو لکھ دیا، مذکورہ آرڈیننس کو اب بل کی صورت میں پارلیمنٹ میں لایا جائے گا۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے اسپیشل اکنامک زون ترمیمی آرڈیننس سے متعلق وضاحتی بیان میں کہا کہ آج کل ای آفس ہے جس سے فائلز کی اپرول آن لائن ہوتی ہے، اس آرڈیننش کو بھی اسٹاف ٹو اسٹاف اپروو سمجھا گیا، دستخط شدہ فائلز موصول ہوئیں تو اس آرڈیننس پر دستخط نہیں تھے، اس کی پرنٹنگ ہو چکی تھی، یہ غلطی ہوئی جس کی درستگی کی گئی، جو بل مشترکہ اجلاس سے صدر کے پاس جائے تو صدر 10 روز اس کو رکھ سکتے ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ خیر سگالی کے تحت ان بلز کو بھی نوٹیفائی نہیں کیا گیا کیوں کہ صدر نے منظوری نہیں دی، پاکستان پیپلزپارٹی اور ن لیگ کا آپس میں اچھا تعلق ہے، اس تعلق کی وجہ سے اس آرڈیننس کو بھی واپس لیا گیا ہے، آئندہ بھی معاملات کو افہام و تفہیم سے چلائیں گے۔

پیپلز پارٹی کا قومی اسمبلی کا بائیکاٹ ختم کرنے کا فیصلہ

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کا بائیکاٹ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، پیپلز پارٹی کل قومی اسمبلی اجلاس میں حصہ لے گی۔

پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے اجلاس کے بائیکاٹ کو ختم کرنے کی تصدیق کردی۔ آرڈیننس صدر آصف زرداری کی منظوری کے بغیر جاری ہونے پر اجلاس کا بائیکاٹ کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے آج صدر مملکت آصف زرداری کے دستخط کے بغیر اسپیشل اکنامک زونزآرڈیننس جاری کرنے پر قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا تھا جب کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صدر کے دستخط کے بغیر اسپیشل اکنامک زونزآرڈیننس جاری کرنے پر پارلیمانی پارٹی اجلاس بھی بلانے کا اعلان کیا تھا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیپلزپارٹی کے ارکان نے ایوان چھوڑ سے واک آؤٹ کیا، تاہم اس دوران وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ انہیں اس عمل سے روکتے رہے۔

نوید قمر نے کہاکہ قانون سازی اس ایوان کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن پہلی مرتبہ حکومت نے ایک ایسا آرڈیننس نافذ کر دیا جو صدر کی توثیق کے بغیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور اس صورتحال میں وہ ایوان کا حصہ نہیں رہیں گے۔

اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی کے ارکان سوشل میڈیا پر چلنے والی باتوں کو سیریس لینے کے بجائے میری بات سن لیں۔ انہوں نے واضح کیاکہ حکومت صدر کی توثیق کے بغیر آرڈیننس کو نوٹیفائی نہیں کرے گی۔

اسلام آباد

National Assembly

PM Shehbaz Sharif

Pakistan People's Party (PPP)

walkout

Islamabad Local Government Elections

LOCAL BODIES ORDENCE

Special Economic Zones Amendment Ordinance