پی آئی اے کے بعد عارف حبیب کی نظر ایک اور بڑے قومی ادارے پر
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) میں اکثریتی حصے کی خریداری مکمل کرنے کے بعد مشہور کاروباری شخصیت عارف حبیب نے پاکستان کی ’بلیو اکانومی‘ اور نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کی جانب توجہ مرکوز کر دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اب ملک کے بحری وسائل سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق 73 سالہ کاروباری شخصیت عارف حبیب نے اتوار کو کراچی کے نیا ناظم آباد جم خانہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نئی ای این ایس سی انتظامیہ نے انہیں مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے دعوت دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سمندری وسائل کے پائیدار تجارتی استعمال کی صلاحیت تقریباً 100 ارب ڈالر سے زائد ہے، لیکن یہ شعبہ ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) میں صرف 0.5 فیصد سے بھی کم حصہ ڈال رہا ہے۔
بزنس ریکارڈر نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے کے حوالے سے بتایا کہ پی این ایس سی اپنے بیڑے کے بحری جہازوں کی تعداد 10 سے بڑھا کر 2030 تک 54 کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، تاکہ سالانہ چھ ارب ڈالر سے زائد کے غیر ملکی فریٹ چارجز کو بچایا جاسکے جو فی الحال بین الاقوامی شپنگ لائنوں کو جاتے ہیں۔
عارف حبیب نے پی آئی اے کو دوبارہ فعال بنانے کے اپنے منصوبے کے بارے میں بھی بتایا اور کہا کہ ایئرلائن کے 34 جہاز ستمبر 2026 تک مکمل طور پر فعال ہوں گے، جب کہ اس وقت صرف 17 جہاز آپریشنل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا کنسورشیم، جس نے 135 ارب روپے (482 ملین ڈالر) میں پی آئی اے کا 75 فیصد حصہ حاصل کیا ہے، اپریل 2026 سے کنٹرول سنبھالے گا اور فوری طور پر جامع ’ٹرن اراؤنڈ‘ حکمت عملی پر عمل درآمد شروع کرے گا۔
عارف حبیب نے کہا کہ پی آئی اے کے مسائل کئی سالوں سے جمع ہو رہے تھے۔ ایئرلائن نے بڑے قرضے لے رکھے تھے، پچھلی حکومتوں نے قرض کی سالانہ ادائیگی کی ضمانتیں دی تھیں، جس سے قرضوں میں اضافہ ہوا اور بھاری سود نے مسئلہ مزید بڑھا دیا۔
خیال رہے کہ پی آئی اے کی ابتدائی نجکاری کی کوشش ناکام رہی تھی، مگر حالیہ معاشی بہتری، کم شرح سود، روپے کی ڈالر کے مقابلے میں قدر میں اضافہ اور تیل کی قیمتوں پر قابو پانے کے بعد فروخت کے لیے بہتر ماحول پیدا ہوا۔
کنسورشیم میں دیگر اہم کاروباری ادارے بھی شامل ہیں۔ فوجی فرٹیلائزر 25 فیصد حصہ رکھے گی، عارف حبیب کا سرمایہ کاری گروپ اور فاطمہ فرٹیلائزر مل کر 25 فیصد حصہ کنٹرول کریں گے، جبکہ باقی 25 فیصد دیگر شرکاء میں تقسیم کیا جائے گا۔
عارف حبیب نے بتایا کہ خریداری کے لیے دیے جانے والے 135 ارب روپے میں سے 125 ارب روپے براہِ راست ایئرلائن میں لگائے جائیں گے تاکہ نئے انجن، جہاز کی دیکھ بھال، آپریشنل اخراجات اور بیڑے کی توسیع کو ممکن بنایا جا سکے۔
اس وقت پی آئی اے کے کل واجبات تقریباً 54 ارب روپے ہیں، جنہیں کنسورشیم اپنی ٹرن اراؤنڈ حکمت عملی کے دوران سنبھالے گا۔
عارف حبیب نے کہا کہ ان کا منصوبہ سروسز کو بہتر بنانے اور مسافروں کے لیے مسابقتی کرایوں کی پیشکش پر مرکوز ہے، جبکہ آپریشنل بیڑے کو 17 سے کم مدت میں بڑھا کر 38 جہاز کرنے کا ہدف ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ملازمین کی بھرتی مکمل میرٹ پر ہوگی اور حفاظتی معیارات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
عارف حبیب کے مطابق کاروباری منصوبے میں کارگو سسٹم کی بہتری کے لیے بھی خصوصی اقدامات شامل ہیں۔
















