کراچی میں تباہی کا بڑا منصوبہ ناکام، بارود سے بھرا ٹرک پکڑا گیا
کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردی کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد برآمد جبکہ تین دہشت گردوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سندھ پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ایڈیشنل آئی جی ذوالفقار لاڑک اور ڈی آئی جی غلام اظفر مہیسر نے پیر کے روز پریس کانفرنس میں بتایا کہ رئیس گوٹھ میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارا گیا، جس کے دوران بڑی مقدار میں بارودی مواد برآمد کیا گیا۔
ایڈیشنل آئی جی ذوالفقار لاڑک کے مطابق دہشت گردوں نے پلاسٹک کے ڈرموں میں 2 ہزار کلوگرام بارودی مواد تیار کر رکھا تھا۔ چھاپے کے دوران ایک دہشت گرد کو موقع سے گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر فرار ہو گئے تھے، تاہم گرفتار دہشت گرد کی نشاندہی پر مزید دو دہشت گردوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار دہشت گردوں کی شناخت جلیل احمد عرف فرید ولد محمد نور، نیاز قادر عرف کنگ ولد قادر بخش اور حمدان عرف فرید ولد محمد علی کے نام سے ہوئی ہے اور ان کا تعلق فتنۃ الہندوستان سے ہے۔ حکام کے مطابق مزید دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ڈی آئی جی غلام اظفر مہیسر نے کارروائی کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردوں نے کراچی میں سویلین اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی اور انہوں نے شہر سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مکان کرائے پر لے رکھا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ خیز مواد افغانستان سے بلوچستان اور پھر کراچی منتقل کیا گیا۔ برآمد شدہ بارودی مواد کو شہر سے باہر حب کے علاقے میں محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق شواہد سے پتا چلتا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورک کو بھارت سے آپریٹ کیا جا رہا تھا اور اس کے تانے بانے بشیر زیب، بی ایل اے، فتنۃ الہندوستان اور مجید بریگیڈ سے ملتے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ بعض مقامی سہولت کار معمولی مالی مفادات کے بدلے دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں اور رہائشی گھروں کو چھپنے اور بارودی مواد تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دہشت گرد منصوبے میں ملوث تمام ذمہ داروں کا پیچھا جاری ہے اور مزید تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔












