اپوزیشن اتحاد نے وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرلی

تحریک تحفظ آئین پاکستان باہمی مشاورت کے بعد مذاکرات پر آمادہ، عمران خان سے نئے میثاق پر دستخط کرانے کی ذمہ داری اٹھانے کا اعلان
شائع 24 دسمبر 2025 11:10pm

اپوزیشن اتحاد نے وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرتے ہوئے باہمی مشاورت کے بعد مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی جب کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے سابق وزیراعظم عمران خان سے نئے میثاق پر دستخط کرانے کی ذمہ داری اٹھانے کا اعلان کردیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کے معاملے پر اپوزیشن الائنس کا اجلاس تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وائس چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، مصطفیٰ نواز کھوکھر، ساجد ترین اور حسین یوسفزئی نے شرکت کی۔

اجلاس میں اپوزیشن کی 2 روزہ قومی کانفرنس اور 8 فروری یوم سیاہ پر تفصیلی مشاورت ہوئی اور 8 فروری کو ملک بھر اور دنیا میں یوم سیاہ اور ہڑتال کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش بھی اجلاس میں زیر غور آئی۔

اجلاس میں ملک کو سیاسی و معاشی بحران سے نکالنے کے لیے نئے میثاق کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا جب کہ اجلاس میں طے پایا کہ شفاف انتخابات، نئے الیکشن کمشنر اور پارلیمانی بالادستی نئے میثاق کا حصہ ہوں گے۔

عمران خان کے سیاسی ڈی این اے میں مذاکرات کی گنجائش نہیں: خواجہ آصف

اپوزیشن اتحاد نے آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر ڈائیلاگ کے لیے آمادگی ظاہر کردی۔

سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی نے 1973 کے آئین پر تمام جماعتوں کے اتفاق پر زور دیا اور نئے میثاق پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دستخط کرانے کی ذمہ داری اٹھانے کا اعلان کیا۔

اجلاس میں 8 فروری یوم سیاہ کو کامیاب بنانے کے لیے صوبائی اور ضلعی کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور بتایا کہ صوبائی اور ڈسٹرکٹ سطح پرذیلی کمیٹیوں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کے ساتھی مذاکرات کی بات کر رہے ہیں، پی ٹی آئی قیادت کو پہلے بھی مذاکرات کی دعوت دے چکا ہوں، اسمبلی فلور پر بھی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دی، انہیں ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں لیکن جائز مطالبات پر ہی مذاکرات ہو سکتے ہیں، مذاکرات کی آڑ میں بلیک میلنگ نہیں چلے گی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ حکومت کا انداز سیاسی گھبراہٹ،فکری دیوالیہ پن کی علامت ہے، حکومت مذاکرات کو ایک دوغلے پن اور عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

شیخ وقاص اکرم نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت محمود اچکزئی اورعلامہ راجہ ناصرعباس سے رابطہ کرسکتی ہے، پی ٹی آئی کسی بھی صورت میں حکومت کے ساتھ بات چیت میں شامل نہیں ہوگی، شہبازشریف کی بات چیت کی پیشکش دوغلاپن اور متضاد موقف ہے۔

عمران خان نے مذاکرات کا اختیار اچکزئی اور ناصر عباس کو دیا ہے: بیرسٹر گوہر

ادھر پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہےکہ بانی پی ٹی آئی نے اپوزیشن الائنس کی قیادت کو مذاکرات کرنے یا نہ کرنےکا مکمل اختیار دیا ہے ، بانی پی ٹی آئی اور پوری جماعت کو محمود خان اچکزئی اورعلامہ راجا ناصر عباس پر مکمل اعتماد ہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کہہ چکے ہیں کہ اگر محمود خان اچکزئی کے پاس مینڈیٹ موجود ہے تو وہ مذاکرات کر سکتے ہیں، کیونکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی اس حوالے سے ان کا نام لیا تھا۔

دریں اثنا وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وزیراعظم مسلسل پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں اور امید ہے کہ بات چیت مثبت اور نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔

خواجہ آصف کے مطابق، ”پی ٹی آئی قیادت کی سیاسی سوچ میں مذاکرات کی گنجائش کم دکھائی دیتی ہے“ اور عمران خان ماضی میں زیادہ تر اپنے سیاسی مفاد پر توجہ دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات ہمیشہ ”کچھ لو اور کچھ دو“ کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے رابطے کیے جا رہے ہیں اور فیصلہ اب پی ٹی آئی کی قیادت نے کرنا ہے کہ وہ بات چیت کا راستہ اپناتی ہے یا نہیں۔

دوسری جانب بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان بھی کہہ چکی ہیں کہ پارٹی میں جو بھی رہنما مذاکرات کی بات کرتا ہے، وہ بانی پی ٹی آئی کے مؤقف کے ساتھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے خیبر پختونخوا کی قیادت کو اسٹریٹ موومنٹ کا پیغام پہنچا دیا ہے۔

Khawaja Asif

PM Shehbaz Sharif

Mehmood Khan Achakzai

Barrister Gohar Ali Khan

PTI Government Talks

Allama Nasir Rizvi