شائع 16 فروری 2026 05:32pm

عمران خان کی آنکھ کا معائنہ: 70 فیصد ریکور ہونے کا دعویٰ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی ہے جب کہ سابق وزیراعظم کی میڈیکل رپورٹ منظر عام پر آگئی ہے۔

پیر کو اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان کی آنکھوں کا طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹر ندیم قریشی اور ڈاکٹر عارف خان نے اپنے دستخط سے رپورٹ جاری کی ہے۔

میڈیکل رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور علامہ راجہ ناصر عباس نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال کا دورہ کیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

عمران خان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر خرم مرزا کو بھی فون پر 25 منٹ طویل بریفنگ دی گئی، جس پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔

ماہر امراضِ چشم کے میڈیکل بورڈ نے 15 فروری 2026 کو بانی چیئرمین پی ٹی آئی کا معائنہ کیا۔ بورڈ میں الشّفاء ٹرسٹ آئی اسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور پمز اسلام آباد کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان شامل تھے۔

میڈیکل رپورٹ کے مطابق عمران خان کی آنکھوں کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، ان کی دائیں آنکھ کی بینائی عینک کے بغیر 6/24 پارشل جب کہ بائیں آنکھ کی بینائی 6/9 ریکارڈ کی گئی۔ عینک کے استعمال سے دائیں آنکھ کی بینائی بہتر ہو کر 6/9 پارشل اور بائیں آنکھ کی بینائی 6/6 ہو گئی ہے۔

سابق وزیراعظم کی دائیں آنکھ کے معائنے میں خون کے بہاؤ اور پردہ بصارت پر سوزش کے آثار پائے گئے تاہم دائیں آنکھ کی سوجن میں نمایاں کمی آئی ہے اور موٹائی 550 سے کم ہو کر 350 ہو گئی ہے، جو بہتری کی علامت قرار دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بینائی 6/36 سے بہتر ہو کر 6/9 پارشل تک پہنچ گئی ہے، جسے اس مرحلے پر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔

میڈیکل بورڈ نے دونوں آنکھوں کے لیے نیواناک اور سسٹین الٹرا جب کہ صرف دائیں آنکھ کے لیے کوسوپٹ آئی ڈراپس تجویز کیے ہیں۔ ماہرین نے اینٹی وی ای جی ایف علاج مکمل ہونے کے بعد او سی ٹی اینجیوگرافی اور ایف ایف اے ٹیسٹ کروانے کا بھی مشورہ دیا ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف نے اپنے ویڈیو بیان میں بتایا ہے کہ عمران خان کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز سے بات ہوئی، گفتگو میں ڈاکٹر مرزا بھی شریک ہوئے۔

ڈاکٹر نے بتایا کہ عمران خان کی بینائی میں بہتری آئی ہے، جب تک خودمعائنہ نہیں کرتارپورٹ کی تصدیق نہیں کرسکتا۔

دوسری جانب اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج اور دیگر اقدامات کے بارے میں چیف جسٹس کو آگاہ کیا اور بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی بینائی علاج کے بعد 67 سے 70 فیصد بحال ہے۔

قبل ازیں اڈیالہ جیل میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا اور سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم کی آنکھ کی بینائی 70 فیصد ریکور ہوچکی ہے۔

معائنے کے بعد ڈاکٹرز نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور عمران خان کی فیملی کو بھی بریفنگ دی۔ ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل ٹیم نے عمران خان کے علاج اور ریکوری کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

اس سے قبل سابق وزیر اعظم کو آنکھ میں درد کی وجہ سے پمز اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں ان کی آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلژن (سی آر وی او) سے متاثر ہے۔

سینٹرل ریٹینل وین اوکلژن سے مراد آنکھ کے رٹینا میں ایک اہم شریان کے بند ہونے سے خون رسنے لگتا ہے، جس سے سوجن پیدا ہوتی ہے اور مرکزی بینائی متاثر ہو سکتی ہے۔

عمران خان کی آنکھ متاثر ہونے کی خبریں میڈیا پر آنے کے بعد سپریم کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان صفدر کو ’فرینڈ آف کورٹ‘ مقرر کیا تھا اور انہیں اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کر کے تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں منگل کو دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے دوران واضح حکم دیا تھا کہ سلمان صفدر جیل جا کر بانی پی ٹی آئی کی حالت زار اور انہیں وہاں میسر سہولیات کا جائزہ لیں۔

Read Comments