عمران خان کی آنکھ کا معائنہ: 70 فیصد ریکوری ہونے کا دعویٰ
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے بانی پی ٹی آئی کا تفصیلی طبی معائنہ کیا ہے اور سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کی آنکھ کی بینائی 70 فیصد ریکور ہوچکی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ میں علاج کے بعد واضح بہتری آئی ہے۔ معائنے کے بعد ڈاکٹرز نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور عمران خان کی فیملی کو بھی بریفنگ دی۔
ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل ٹیم نے عمران خان کے علاج اور ریکوری کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
اس سے قبل سابق وزیر اعظم کو آنکھ میں درد کی وجہ سے پمز اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں ان کی آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلژن (سی آر وی او) سے متاثر ہے۔
سینٹرل ریٹینل وین اوکلژن سے مراد آنکھ کے رٹینا میں ایک اہم شریان کے بند ہونے سے خون رسنے لگتا ہے، جس سے سوجن پیدا ہوتی ہے اور مرکزی بینائی متاثر ہو سکتی ہے۔
عمران خان کی آنکھ متاثر ہونے کی خبریں میڈیا پر آنے کے بعد سپریم کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان صفدر کو ’فرینڈ آف کورٹ‘ مقرر کیا تھا اور انہیں اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کر کے تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں منگل کو دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے دوران واضح حکم دیا تھا کہ سلمان صفدر جیل جا کر بانی پی ٹی آئی کی حالت زار اور انہیں وہاں میسر سہولیات کا جائزہ لیں۔













