گُل پلازہ کا پہلا فلور کلیئر، 26 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق 83 لاپتا
کراچی کے علاقے میں واقع گل پلازہ میں جاری ریسکیو آپریشن شدید سست روی کا شکار ہو گیا ہے، جہاں تاحال 83 افراد لاپتا ہیں۔ سانحے میں اب تک 26 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق گل پلازہ میں ریسکیو ٹیموں نے پہلا فلور کلیئر کردیا ہے، جبکہ دوسری اور تیسری منزل پر سرچنگ جاری ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ چھت پر کھڑی گاڑیوں کو کرین کی مدد سے نیچے اُتار لیا گیا ہے، ناقابل شناخت لاشوں کے ڈی این اے نمونے لے لیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق عمارت کے پچھلے حصے میں محدود ریسکیو ٹیمیں انتہائی کم وسائل کے ساتھ کارروائی میں مصروف ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے ملبے کو ہٹانے اور ممکنہ طور پر دبے افراد تک پہنچنے کے لیے مطلوبہ تعداد میں افرادی قوت دستیاب نہیں، جس کے باعث آپریشن مؤثر انداز میں آگے نہیں بڑھ پا رہا۔
ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بھاری مشینری اور ریسکیو گاڑیاں گزشتہ چار گھنٹوں سے بند پڑی ہیں، جس سے صورتحال مزید تشویشناک ہے۔
عینی شاہدین اور متاثرہ خاندانوں نے ریسکیو آپریشن میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اضافی نفری اور جدید مشینری فراہم کی جائے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے اہم تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک 14 لاشوں کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں، جن میں سے ایک لاش کی شناخت قومی شناختی کارڈ کے ذریعے ممکن ہو سکی ہے۔
ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ متاثرہ افراد کے لواحقین کے 48 ڈی این اے نمونے بھی حاصل کیے جا چکے ہیں تاکہ لاشوں کی درست اور حتمی شناخت ممکن بنائی جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام ڈی این اے سیمپلز سندھ فرانزک ڈی این اے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جب کہ مزید تصدیق اور تجزیے کے لیے آئی سی سی بی ایس اور جامعہ کراچی کو بھی سیمپلز ارسال کیے گئے ہیں۔
ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق کچھ باقیات اب بھی موجود ہیں جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق باقی ماندہ باقیات کی شناخت کا عمل آج مکمل کیے جانے کا امکان ہے۔
حکام کے مطابق شناختی عمل مکمل ہونے کے بعد لواحقین کے حوالے سے قانونی کارروائی اور لاشوں کی حوالگی کا عمل بھی شروع کیا جائے گا، جب کہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
ادھر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ریسکیو آپریشن کو تیز کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، جس کے بعد ریسکیو ٹیمیں عمارت کے اندر داخل ہو گئیں اور لاشوں کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
حکام کے مطابق آگ بجھنے کے بعد ریسکیو کارروائی میں تیزی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم عمارت کی مخدوش حالت کے باعث شدید احتیاط برتی جا رہی ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق اب تک عمارت سے 26 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جن میں سے 13 لاشوں کی شناخت کر لی گئی ہے، جبکہ بیشتر لاشیں بری طرح جھلسنے کے باعث ناقابل شناخت ہیں۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ باقی لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔ واقعے کے بعد 83 افراد تاحال لاپتا ہیں، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں ملبے اور عمارت کے مختلف حصوں میں کارروائی کر رہی ہیں۔
حکام نے سیکیورٹی اور ریسکیو سرگرمیوں کے پیش نظر گل پلازہ کے عقب میں واقع سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔ ریسکیو آپریشن کے دوران عمارت کی چھت سے کرین کی مدد سے 17 گاڑیاں، 12 موٹر سائیکلیں اور ایک رکشہ بھی اتار لیا گیا ہے۔
ریسکیو حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ متاثرہ عمارت کسی بھی وقت گر سکتی ہے، جس کے باعث ریسکیو اہلکاروں کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔
متاثرہ خاندانوں کے افراد رات بھر اپنے پیاروں کی تلاش میں عمارت کے باہر موجود رہے، جب کہ فضا سوگوار اور رقت آمیز مناظر سے بھرپور رہی۔