ایران میں ہلاکتوں کی نئی تعداد جاری، امریکا کا نیوکلئیر سائٹ پر ایک اور حملہ

مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ تصادم اب تیزی سے پھیل رہا ہے۔
اپ ڈیٹ 03 مارچ 2026 03:32pm

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے نتیجے میں اب تک کم از کم 787 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ایرانی ہلالِ احمر نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے ایک پیغام میں تصدیق کی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔

ایران کی ہلالِ احمر سوسائٹی کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، امریکا اور اسرائیل کے حملوں نے اب تک ایران کے کم از کم 153 شہروں کو متاثر کیا ہے، جہاں مجموعی طور پر ایک ہزار 39 حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ ان کارروائیوں میں اب تک ملک بھر کے 504 مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ ان ہولناک حملوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 787 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

کیا آپ اس حوالے سے مزید جانی و مالی نقصانات یا امدادی کاموں کی تفصیلات جاننا چاہیں گے؟

اسی دوران اقوامِ متحدہ کے ایٹمی نگران ادارے نے بھی ایک اہم رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے شہر نطنز میں واقع ایٹمی ایندھن کی افزودگی کے مرکز کو حالیہ فضائی حملوں میں نقصان پہنچا ہے۔

تاہم عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اس نقصان سے فی الحال کسی قسم کی تابکاری پھیلنے کا خطرہ نہیں ہے کیونکہ حملوں کا رخ ایٹمی مرکز کے زیرِ زمین حصے کی بیرونی عمارتوں کی طرف تھا۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ تصادم اب تیزی سے پھیل رہا ہے۔

گزشتہ رات ایران کے دارالحکومت تہران میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جب امریکا اور اسرائیل نے تہران میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔

دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب میزائل داغے، جنہیں روکنے کے لیے اسرائیلی دفاعی نظام متحرک رہا۔

ایران نے منگل کی صبح سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں موجود امریکی سفارت خانے پر بھی ڈرون حملہ کیا ہے۔

اس جنگ کے اثرات اب تیل اور گیس کی پیداوار والے اہم مراکز تک پہنچ رہے ہیں، جس سے عالمی معیشت کے لیے بھی خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔

لبنان میں بھی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے جہاں ایران کے حامی گروپ حزب اللہ نے اسرائیل پر میزائل برسائے، جس کے جواب میں اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی فوج داخل کر دی ہے۔

اسرائیلی فوج نے سرحدی علاقوں میں اہم پوزیشنیں سنبھال لی ہیں جبکہ لبنانی فوج نے سرحد کے قریب اپنے کچھ ٹھکانے خالی کر دیے ہیں۔