ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشن: ٹرمپ نے چار بڑے اہداف واضح کر دیے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے جاری ایک اہم بیان میں ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے چار بنیادی اہداف کی تفصیلات فراہم کر دی ہیں۔
ہفتے کے روز اسرائیل کے اشتراک سے شروع کیا جانے والا یہ آپریشن دونوں ممالک کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی میں ایک بڑے اضافے کی علامت ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف موجودہ خطرات کو ختم کرنا اور مستقبل کے خطرات کا راستہ روکنا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ مہم اس وقت شروع کی گئی جب ایران نے 2025 کے حملوں کے بعد اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ بحال نہ کرنے کی وارننگ کو نظر انداز کیا۔
اس آپریشن کے نتیجے میں اب تک ایران کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے جس میں ایرانی سپریم لیڈر کی موت اور امریکی اہلکاروں کی ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔
تاہم کچھ تجزیہ کاروں اور میڈیا رپورٹس کا کہنا ہے کہ ان فوجی کارروائیوں کے جواز کے بارے میں شکوک و شبہات بھی پائے جاتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے بیان کردہ پہلا ہدف ایران کی میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنا ہے۔
امریکی صدر کا موقف ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام امریکی اڈوں اور خود امریکی سرزمین کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
امریکی حملوں میں اب تک ایران کے میزائل لانچ کرنے والے مقامات، گوداموں اور ان کی تیاری کے کارخانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے تاکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو میزائلوں کے پیچھے نہ چھپا سکے۔
دوسرا ہدف ایرانی بحریہ کی طاقت کا خاتمہ ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی افواج خلیج عرب اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارت اور بحری جہازوں کو محفوظ بنانے کے لیے ایرانی بحری صلاحیتوں کو ملیامیٹ کر رہی ہیں۔
اب تک کی کارروائیوں میں ایران کے کم از کم دس بحری جہاز ڈوبنے کی اطلاعات ہیں۔
امریکا کے دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم کسی طویل جنگ میں الجھے بغیر ایرانی خطرے کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔
تیسرا اہم مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتے لیکن کسی صورت اسے ایٹمی طاقت بننے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا جس کی وجہ سے یہ پیشگی کارروائی ناگزیر ہو گئی تھی۔
چوتھا اور آخری ہدف ایران کی جانب سے بیرون ملک مسلح گروہوں کی مالی اور عسکری امداد کو روکنا ہے۔
امریکا کا الزام ہے کہ ایران ہر سال اربوں ڈالر حزب اللہ، حماس اور حوثی باغیوں جیسے گروہوں کو فراہم کرتا ہے جو خطے میں امریکی مفادات پر حملے کرتے ہیں۔
ان حملوں کے ذریعے ایران کے سپلائی نیٹ ورک اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ اس کا علاقائی اثر و رسوخ ختم کیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ آپریشن چار سے پانچ ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے تاہم ضرورت پڑنے پر اس کی مدت بڑھائی بھی جا سکتی ہے۔
جہاں امریکی حکام اسے دفاعی ضرورت قرار دے رہے ہیں وہیں عالمی سطح پر اس کے انسانی اور جغرافیائی اثرات کے حوالے سے تشویش بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔
















