دوست سے دشمن تک: پاکستان اور افغان طالبان میں کشیدگی کیوں بڑھی؟
پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات کو ایک زمانے میں قریبی اور اسٹریٹجک شراکت داری قرار دیا جاتا تھا، لیکن حالیہ مہینوں میں یہی تعلقات شدید کشیدگی اور عسکری تصادم میں بدل چکے ہیں۔ تازہ جھڑپوں اور فضائی حملوں کے بعد سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ دہائیوں کی قربت دشمنی میں تبدیل ہو گئی؟
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعہ کو اسلام آباد اور کابل کے حکام نے تصدیق کی کہ پاکستان نے افغانستان کے مختلف سرحدی علاقوں میں فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں۔ ان حملوں میں طالبان کے فوجی مراکز، ہیڈکوارٹرز اور اسلحہ ڈپوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں افغانستان کی جانب سے سرحدی فورسز پر حملے کے بعد کی گئیں۔ دونوں طرف سے بھاری جانی نقصان کے دعوے کیے گئے، جبکہ پاکستان کے وزیر دفاع نے صورتحال کو ’کھلی جنگ‘ قرار دیا۔
یہ کشیدگی اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ گزشتہ سال اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں میں درجنوں فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ بعد ازاں سعودی عربیہ ، ترکی اور قطر کی ثالثی سے جنگ بندی ہوئی، تاہم یہ سیزفائر زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے سرحدی جھڑپیں، راستوں کی بندش اور تجارتی رکاوٹیں سامنے آتی رہیں۔
پاکستان نے 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کا خیرمقدم کیا تھا۔ اُس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ افغان عوام نے ’غلامی کی زنجیریں توڑ دیں‘۔ لیکن وقت کے ساتھ اسلام آباد کو یہ احساس ہوا کہ طالبان حکومت اس کی توقعات کے مطابق تعاون نہیں کر رہی۔
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبا پاکستان (ٹی ٹی پی) کی قیادت اور جنگجو افغانستان میں موجود ہیں اور وہیں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند گروہوں پر بھی افغانستان میں پناہ لینے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ عالمی نگرانی کرنے والے ادارے Armed Conflict Location & Event Data کے مطابق 2022 کے بعد پاکستان میں شدت پسند حملوں میں ہر سال اضافہ دیکھا گیا ہے۔
دوسری جانب کابل حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے اور کہتی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جا رہی۔ افغان طالبان یہ بھی الزام لگاتے ہیں کہ پاکستان ان کے مخالف گروہ اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں کو پناہ دیتا ہے، جس کی اسلام آباد تردید کرتا ہے۔
پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ہونے والے خودکش حملوں اور فوجی تنصیبات پر حملوں کے پیچھے افغانستان میں موجود عناصر کا ہاتھ ہے۔ باجوڑ میں ایک حملے میں 11 سکیورٹی اہلکار اور دو شہری ہلاک ہوئے، جس کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور افغان شہری تھا۔
ٹی ٹی پی 2007 میں شمال مغربی پاکستان میں سرگرم مختلف شدت پسند گروہوں کے اتحاد سے بنی۔ اسے عام طور پر پاکستانی طالبان کہا جاتا ہے۔
اس تنظیم نے بازاروں، مساجد، ائیرپورٹس، فوجی اڈوں اور پولیس مراکز کو نشانہ بنایا۔ 2012 میں لڑکیوں کی تعلیم کی حامی طالبہ ملالہ یوسفزئی پر حملہ بھی اسی گروہ نے کیا تھا، جو بعد ازاں امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی کم عمر ترین شخصیت بنیں۔
ماضی میں ٹی ٹی پی کے جنگجو افغان طالبان کے ساتھ مل کر امریکہ کی قیادت میں قائم افواج کے خلاف لڑتے رہے۔ پاکستان نے اپنی سرزمین پر اس تنظیم کے خلاف کئی فوجی آپریشن کیے، جن میں 2016 تک نمایاں کمی آئی، تاہم حالیہ برسوں میں حملوں میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
عسکری طاقت کے اعتبار سے دونوں ممالک کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ لندن میں قائم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے پاس 6 لاکھ سے زائد فعال فوجی اہلکار، 6 ہزار سے زیادہ بکتر بند گاڑیاں اور 400 سے زائد جنگی طیارے موجود ہیں۔
پاکستان ایک جوہری طاقت بھی ہے۔ اس کے مقابلے میں طالبان کے پاس تقریباً ایک لاکھ 72 ہزار اہلکار ہیں۔ ان کے پاس کم از کم 6 طیارے اور 23 ہیلی کاپٹر موجود بتائے جاتے ہیں، تاہم ان کی عملی حالت واضح نہیں اور ان کے پاس کوئی مؤثر لڑاکا فضائیہ موجود نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی تو پاکستان اپنی فوجی مہم کو مزید وسعت دے سکتا ہے، جبکہ کابل کی جانب سے سرحدی چوکیوں پر حملوں اور گوریلا طرز کی کارروائیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال نے خطے میں غیر یقینی کو بڑھا دیا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔















