بنگلہ دیش میں ’شیڈو کابینہ‘ کی بازگشت، اپوزیشن کا یہ نیا تجربہ کیا ہے؟
بنگلہ دیش میں 13ویں پارلیمانی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کی تیاریاں جاری ہیں۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ طارق رحمان کی قیادت میں کابینہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے، اسی دوران ملک میں پہلی بار ’شیڈو کابینہ‘ کے قیام کی بحث نے سیاسی حلقوں میں دلچسپی پیدا کر دی ہے۔
12 فروری کو ہونے والے انتخابات میں بی این پی نے دو تہائی سے زائد نشستیں حاصل کر کے ڈیڑھ دہائی بعد حکومت بنانے کی پوزیشن حاصل کی ہے، جبکہ جماعت اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور دیگر جماعتوں پر مشتمل 11 جماعتی اتحاد نے 77 نشستیں جیت کر پارلیمنٹ میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔
نیشنل سٹیزن پارٹی کے ترجمان آصف محمود شوجِب بھویان نے نتائج کے بعد سوشل میڈیا پر شیڈو کابینہ بنانے کی بات کی۔ بعد ازاں جماعت اسلامی کے امیدوار ششیر منیر نے بھی اسی تجویز کی حمایت کی اور کہا کہ حکمران جماعت اپنی کابینہ بنائے اور اپوزیشن شیڈو کابینہ تشکیل دے تاکہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سنجیدہ بحث ہو سکے۔
شیڈو کابینہ کا تصور برطانیہ کے ویسٹ منسٹر پارلیمانی نظام سے لیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت اپوزیشن ایک متوازی ٹیم بناتی ہے جس کے ارکان حکومت کی کابینہ کے ہر وزیر کے مقابل متعلقہ شعبے پر نظر رکھتے ہیں۔
ان کا کام صرف تنقید کرنا نہیں بلکہ متبادل پالیسیاں پیش کرنا اور حکومت کو جوابدہ بنانا ہوتا ہے۔
اس طرح اپوزیشن خود کو ایک ایسی متبادل حکومت کے طور پر پیش کرتی ہے جو مستقبل میں اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار ہو۔
برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا جیسے ممالک میں شیڈو کابینہ ایک باقاعدہ اور فعال نظام کا حصہ ہے۔
مثال کے طور پر برطانیہ میں لیبر پارٹی نے اپوزیشن کے دور میں شیڈو کابینہ بنائی تھی اور بعد میں انتخابات جیتنے کے بعد اسی ٹیم کے کئی ارکان کو اصل کابینہ میں شامل کیا گیا۔
ان ممالک میں شیڈو وزرا متعلقہ شعبوں کے ماہرین، مزدوروں، صنعت کاروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے رابطہ رکھتے ہیں تاکہ مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں اور حکومت کو ٹھوس تجاویز دے سکیں۔
بنگلہ دیش میں یہ تصور نسبتاً نیا ہے اور ماضی میں کبھی باضابطہ شیڈو کابینہ قائم نہیں کی گئی۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر اپوزیشن اس سمت میں قدم اٹھاتی ہے تو پارلیمانی جمہوریت مضبوط ہو سکتی ہے۔
ماضی میں اپوزیشن کی جانب سے پارلیمنٹ کے بائیکاٹ اور سڑکوں پر احتجاج کی روایت رہی ہے جس کے باعث سیاسی کشیدگی اور عدم استحکام پیدا ہوا۔
ماہرین کے مطابق اگر اختلافات کو پارلیمنٹ کے اندر منظم اور ادارہ جاتی انداز میں اٹھایا جائے تو مسائل کا حل زیادہ پُرامن اور موثر طریقے سے نکل سکتا ہے۔
شہری تنظیم ’شوجان‘ کے سیکریٹری بدیع العالم مجمدار نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کے علم کے مطابق بنگلہ دیش میں کبھی شیڈو کابینہ نہیں بنی، لیکن یہ ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق اس وقت اپوزیشن پارلیمنٹ میں تنقید تو کرتی ہے، مگر اکثر یہ تنقید منظم پالیسی بحث کی شکل اختیار نہیں کر پاتی۔ اگر ماہرین کی رائے کو شامل کر کے باضابطہ شیڈو کابینہ قائم کی جائے تو تعمیری مکالمہ ممکن ہو سکتا ہے۔
اگر اپوزیشن شیڈہ کابینہ بناتی ہے تو یہ بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نیا تجربہ ہوگا جو مستقبل کی سیاسی روایت پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔















