’سافٹ ویئر اپڈیٹ ہوگیا‘: شعیب اختر کا محسن نقوی پر کی گئی تنقید سے ’یوٹرن‘

شعیب نے اینکر کے بعض سوالات اور محسن نقوی کے بارے میں نازیبا الفاظ پر ناراضی کا اظہار بھی کیا تھا۔
اپ ڈیٹ 17 فروری 2026 12:41pm

پاکستان کی بھارت کے ہاتھوں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ مقابلے میں شکست کے بعد سابق فاسٹ بولر شعیب اختر بھارتی میڈیا پر دیے گئے اپنے ایک بیان کے باعث تنازع کی زد میں ہیں۔

واضح رہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کو پہلی شکست کا سامنا بھارت کے ہاتھو کرنا پڑا تھا۔ بھارت نے 61 رنز سے کامیابی حاصل کر کے سپر 8 مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا ہے۔ بھارت نے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں پر 175 رنز بنائے۔ 176 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی بیٹنگ لائن ابتدا ہی سے دباؤ کا شکار رہی اور وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں۔

میچ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق ٹیم بیٹنگ، بولنگ اور حکمت عملی کے شعبوں میں ہم آہنگی کا مظاہرہ نہ کر سکی۔ ابتدا ہی سے ٹیم دباؤ میں دکھائی دی جبکہ بھارتی ٹیم نے منظم انداز میں کھیل پیش کرتے ہوئے ہر موقع سے فائدہ اٹھایا۔

شکست کے بعد پاکستان میں ٹیم سلیکشن، بیٹنگ آرڈر اور بولنگ لائن پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بھارتی ٹی وی پر تبصرے کے دوران شعیب اختر نے بھی میچ پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

شعیب اختر نے بھارتی نیوز چینل ’اے بی پی نیوز‘ کے ایک پروگرام میں شرکت کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی پر مبینہ تنقید کی۔ اس دوران ان کی بھارتی اینکر کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی جس کے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے۔

شعیب اختر نے میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اب ایک بندے کو نہیں پتا، وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کا سب سے بڑا کرائم (جرم) یہ ہے کہ آپ اِن کمپیٹینٹ (نااہل) بندے کو بڑی جاب (ذمہ داری) دے دیں۔ آپ جب اِن کمپیٹنٹ اور جاہل بندے کو بڑی جاب دے دیں گے نا تو وہ ملک کی تباہی اُتار دے گا، وہ کسی بھی ادارے کی تباہی اُتار دے گا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’آپ نے ایک بندے کو سُپراسٹار بنایا ہوا ہے جو ایک میچ نہیں جیت سکتا، اُسے سُپر اسٹار بنایا ہوا ہے جو دس اوور نہیں کرسکتا۔ جب آپ اس طرح کے اسٹار بناؤ گے، چُنو گے تو پھر یہی مسئلہ ہوگا‘۔

بعد ازاں شعیب اختر نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’خبر وِد محمد مالک‘ میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی میڈیا پر ان کے بیان کو غلط رنگ دیا گیا۔

شعیب اختر نے کہا کہ ’میں نے اِن کمپیٹنٹ اور جاہل جو کہا تو انہیں لگتا ہے میں نے محسن بھائی کے بارے میں کہا تھا، لیکن میرا اشارہ عالمی کرکٹ کو چلانے والی ٹاپ براس کی طرف تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اسی پروگرام میں کہا تھا محسن بھائی کے بارے میں غلط بات نہ کرنا میں برداشت نہیں کروں گا، میں نے کہا تھا محسن نقوی ایک اچھے آدمی ہیں وہ پاکستان کرکٹ کی مدد کرنا چاہتے ہیں، لیکن انہیں صحیح مشورہ نہیں ملتا۔

برطانوی امپائر رچرڈ کیٹلبرو نے شعیب اختر کے اس بیان کو ’یوٹرن‘ قرار دیا۔

واضح رہے کہ بحث کے دوران شعیب نے اینکر کے بعض سوالات اور محسن نقوی کے بارے میں نازیبا الفاظ پر ناراضی کا اظہار بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ بطور مہمان وہ کسی قسم کی بے عزتی برداشت نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آپ ان کے بارے میں ایسے نہیں کہہ سکتیں، آپ کے سامنے شعیب نہیں پاکستان بیٹھا ہے‘۔

شعیب اختر کی وضاحت کو یوٹیوبر توفیق ریاض نے ’سافٹ ویئر‘ اپڈیٹ قرار دیا۔

براڈ کاسٹر جرنلسٹ طارق متین نے بھی لکھا’: شعیب اختر کا سافٹ ویئر نیا ہو گیا‘۔

کچھ سوشل میڈیا صارفین نے بھارتی میڈیا پر پاکستان کے دفاع پر شعیب اختر کی تعریف بھی کی۔

شعیب اختر نے پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر بھی تنقید کی۔ ان کے مطابق گزشتہ پانچ سے دس برسوں میں ٹیم تسلسل کے ساتھ بہتر نتائج نہیں دے سکی۔

انہوں نے کہا کہ شاہین آفریدی مکمل فٹ نہیں ہیں اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ بابر اعظم کے انداز سے مطابقت نہیں رکھتا، خاص طور پر جب تک انہیں اوپننگ پوزیشن پر موقع نہ دیا جائے۔

انہوں نے شاداب خان کے انتخاب پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ ٹیم میں بعض فیصلے سمجھ سے بالاتر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے غلط انداز میں کھلاڑیوں کو اسٹار بنایا اور کوچنگ و انفراسٹرکچر پر مطلوبہ توجہ نہیں دی۔

سابق فاسٹ بولر نے یہ بھی کہا کہ بھارت جدید تقاضوں کے مطابق کرکٹ کھیل رہا ہے جبکہ پاکستان ابھی بھی پرانے طریقوں پر انحصار کر رہا ہے، جس کی ذمہ داری سب پر عائد ہوتی ہے۔

ان کے مطابق ماضی میں پاکستان نے بھارت کو اس کی سرزمین پر شکست دی، مگر موجودہ حالات میں نظام اور منصوبہ بندی پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔