سانحہ گُل پلازہ: جوڈیشل کمیشن کی لواحقین سے ملاقات، ہر بیان کرب ناک

حکومت سمیت تمام متعلقہ اداروں سے معلومات حاصل کی جائیں گی، کمیشن
شائع 17 فروری 2026 09:16am

سانحۂ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے پہلی سماعت کے موقع پر جاں بحق افراد کے لواحقین سے ملاقات کی، جہاں غم، آنسو اور درد کی درجنوں داستانیں سامنے آئیں۔

کمیشن کی سربراہی جسٹس آغا فیصل نے کی تھی جہاں ابتدائی سماعت میں 23 متاثرین نے اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے۔

ہر بیان کرب اور اذیت کی تصویر پیش کر رہا تھا۔ خواتین زار و قطار روتی رہیں جبکہ مردوں نے اپنے پیاروں سے ہونے والی آخری گفتگو کا احوال سنایا تو ماحول سوگوار ہو گیا۔

کمیشن کا کہنا تھا کہ وہ انکوائری کا آغاز متاثرین سے کرنا چاہتے ہیں تاکہ حقائق براہِ راست سامنے آ سکیں۔

کمیشن کے مطابق تمام لواحقین سوال نامے ڈی جی آفس یا کمیشن کے دفتر میں جمع کروائیں۔ کمیشن نے واضح کیا کہ حکومت سمیت تمام متعلقہ اداروں سے معلومات حاصل کی جائیں گی اور ایمبولینس و ریسکیو سروسز سے بھی جواب طلب کیا جائے گا۔

کمیشن کے مطابق مقصد صرف ذمہ داروں کا تعین نہیں بلکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام ہے۔ ارکان نے ریمارکس دیے کہ مالی نقصان کی تلافی ممکن ہے لیکن جانی نقصان کا کوئی ازالہ نہیں۔

دورانِ سماعت جاں بحق شہری عبدالحمید کی والدہ نے آبدیدہ ہو کر بتایا کہ رات دس بجے بیٹے سے بات ہوئی تو آگ لگنے کا علم ہوا۔ اس نے کہا امی بس نکل رہا ہوں، لیکن وہ ایک بچے کو بچانے کے لیے رک گیا۔ بعد میں ہمیں ٹکڑوں میں لاشیں ملیں۔

ایک اور متاثرہ شہری عبدالعزیز کے بھائی نے بتایا کہ ساڑھے دس بجے صرف ایک فائر بریگیڈ پہنچی تھی۔ ہماری آنکھوں کے سامنے سب کچھ ہو رہا تھا۔ رات ایک بجے لوگ اندر سے فون کر کے مسجد میں موجودگی کا بتا رہے تھے، ایمبولینس موجود تھیں مگر اندر کوئی نہیں گیا۔

ایک شہری نے دعویٰ کیا کہ عمارت کے دروازے بند تھے جبکہ علیم نامی متاثرہ شخص نے بتایا کہ اس کے بھائی عابد نے چھلانگ لگا کر جان بچائی لیکن والد اندر ہی دم توڑ گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پانی کی کمی نہ ہوتی تو کئی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

قیصر نامی شہری نے کمیشن کو بتایا کہ انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں، اس لیے وہ زیادہ کچھ نہیں بتانا چاہتے۔ ایک خاتون نے روتے ہوئے کہا کہ فائر بریگیڈ صرف دیواروں پر پانی مارتا رہا۔

ایک اور شہری نے بتایا کہ وہ پونے گیارہ بجے موقع پر پہنچے اور بیٹے سے فون پر کہا کہ اگر قسمت ہوگی تو بچ جاؤ گے۔

مہناز نامی خاتون نے بیان دیا کہ ان کا بیٹا حیدر اسکول چھوڑ کر کام پر لگا تھا اور اسی حادثے میں جان کی بازی ہار گیا۔ ایک متاثرہ شہری نے الزام عائد کیا کہ فائر بریگیڈ کے پاس نہ پانی تھا نہ ڈیزل، جس کا انتظام بھی متاثرین نے خود کیا۔

کئی لواحقین نے واقعے کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد کرتے ہوئے سخت احتساب کا مطالبہ کیا۔ ایک شہری نے جذباتی انداز میں کہا، حکومت نے ہمارے بچوں کا قتل کیا ہے۔