مذاکرات کا نیا دور: ’روس یوکرین جنگ کا حل نکلنے کا امکان‘

زیلنسکی نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے
شائع 15 فروری 2026 08:46am

روس، امریکا اور یوکرین کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کے سلسلے میں سہ فریقی مذاکرات کا نیا دور سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں 17 اور 18 فروری کو منعقد ہوگا۔ خبر ایجنسی کے مطابق مذاکرات کے اس مرحلے میں تینوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود شرکت کریں گے۔

رپورٹس کے مطابق روسی وفد کی قیادت کریملن کے صدارتی معاون ولادیمیر میدنسکی کریں گے۔

اس سے قبل سہ فریقی مذاکرات کے دو ادوار متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ہوچکے ہیں، جہاں فریقین نے جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور ممکنہ سیاسی فریم ورک پر ابتدائی تبادلۂ خیال کیا تھا۔

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ ہفتے امریکا کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یوکرین پر حد سے زیادہ رعایتیں دینے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے جبکہ روس سے اسی نوعیت کی لچک کا مطالبہ نہیں کیا جارہا۔

صدر زیلنسکی نے الزام عائد کیا کہ روس مرکزی مذاکرات کار کو تبدیل کرکے فیصلوں میں تاخیر کرنا چاہتا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر سنجیدہ سفارتی دباؤ ڈالا جائے تو پیش رفت ممکن ہے۔

یوکرینی صدر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ روس کو معاہدے پر آمادہ کرسکتے ہیں۔

زیلنسکی کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے پر عوامی ریفرنڈم کرانے سے قبل مکمل اور مؤثر جنگ بندی ناگزیر ہوگی، کیونکہ فعال جنگی صورتحال میں شفاف عوامی رائے شماری ممکن نہیں۔