جلا وطنی سے اقتدار میں کامیاب واپسی، طارق رحمان وزیراعظم بنگلہ دیش بننے کو تیار

اقتدار میں آنے کے بعد بی این پی کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا
شائع 13 فروری 2026 01:25pm

بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے جمعے کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے تقریباً دو دہائیوں بعد اقتدار میں واپسی کی راہ ہموار کرلی ہے۔ اس کامیابی کے بعد پارٹی قائد طارق رحمان کے وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں، جبکہ ملک کئی ماہ کی بدامنی اور معاشی ابتری کے بعد ایک نئے سیاسی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

60 سالہ طارق رحمان سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا مرحوم کے صاحبزادے ہیں جو لندن میں 17 سال خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے بعد گزشتہ برس دسمبر میں ڈھاکا واپس آئے تھے جس پر ان کی جماعت کے کارکنوں نے ان کا شاندار استقبال کیا تھا۔

طارق رحمان کو سنہ 2007 میں بنگلہ دیش کی فوجی حمایت یافتہ نگران حکومت کے دور میں کرپشن کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا۔ 18 ماہ جیل میں گزارنے کے بعد وہ ستمبر 2008 میں رہا ہوئے اور اپنے خاندان کے ساتھ لندن منتقل ہو گئے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق طارق رحمان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اُنہیں فوری طور پر سیاسی استحکام کی بحالی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور اہم صنعتوں خصوصاً گارمنٹس سیکٹر کی بحالی جیسے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔

یہ بحران بنگلہ دیش کی سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے گزشتہ برس خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی طویل بدامنی کے نتیجے میں شدت اختیار کرگیا تھا۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں ہونے والے عام انتخابات میں بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے 299 میں سے کم از کم 212 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ اپوزیشن اتحاد جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور اس کے اتحادیوں نے 70 نشستیں جیتی ہیں۔

تاہم بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے مطابق بی این پی کو 181، جماعت اسلامی کو 61 جبکہ دیگر امیدواروں کو 7 نشستیں ملی ہیں۔

نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) جس کی قیادت نوجوان کارکنوں کے ہاتھ میں ہے اور جس نے حسینہ حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا، 30 میں سے صرف 5 نشستیں جیت سکی۔

بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ بعض حلقوں کے نتائج کی پروسیسنگ کا عمل جاری ہے اور مکمل سرکاری نتائج چند گھنٹوں میں متوقع ہیں، البتہ گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہونے میں چند روز لگ سکتے ہیں، جس کے باعث نئی حکومت کی حلف برداری میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ آئین کے تحت گزٹ نوٹیفکیشن کے بغیر نئی حکومت حلف نہیں اٹھا سکتی۔

الیکشن کے ساتھ آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم بھی منعقد ہوا۔ براڈکاسٹر جامونا ٹی وی کے مطابق 20 لاکھ سے زائد ووٹرز نے ہاں جبکہ 8 لاکھ 50 ہزار سے زائد نے نہیں میں ووٹ دیا، تاہم اس حوالے سے سرکاری اعلان تاحال جاری نہیں ہوا ہے۔

الیکشن میں بڑی کامیابی حاصل کرنے پر بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی، پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور بنگلادیش میں امریکا کے سفیر برینٹ ٹی کرسٹینسن نے بھی طارق رحمان کو ان کی جماعت کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے۔