بنگلادیش انتخابات: بی این پی رہنما پولنگ اسٹیشن کے باہر جاں بحق
بنگلہ دیش میں ہونے والے انتخابات کے دوران شہر خولنا میں پولنگ سینٹر کے باہر بی این پی (بنگلہ دیش نیشنل پارٹی) کے رہنما محیب الزمان کوچی جاں بحق ہو گئے ہیں۔
بی ڈی نیوز 24 کی رپورٹ کے مطابق واقعہ جمعرات کی صبح آٹھ بج کر دس منٹ پر پولنگ کے دوران پیش آیا، جس میں 55 سالہ بی این پی کے رہنما محیب الزمان کوچی جو سابق آفس سیکریٹری خولنا سٹی یونٹ بھی رہ چکے ہیں، جاں بحق ہوگئے۔
بی این پی کے مطابق محیب الزمان کوچی کی ہلاکت اس وقت ہوئی جب جماعت اسلامی کے ایک رہنما نے انہیں دھکیل دیا اور وہ درخت سے ٹکرا گئے، جس سے ان کے سر پر شدید چوٹ آئی۔
سابق تنظیمی سیکریٹری خولنا سدرانہ بی این پی یوسف ہارون مجنو نے بتایا کہ پولنگ اسٹیشن پر صبح سے کشیدہ صورتحال تھی۔ علیا مدرسہ کے پرنسپل وہاں جماعت اسلامی کے لیے مہم چلا رہے تھے۔ جب انہیں روکا گیا تو انہوں نے محیب الزمان کوچی کو دھکیل دیا، وہ درخت سے ٹکرا گئے اور سر پر گہری چوٹ لگنے کے باعث چل بسے۔
دوسری جانب جماعت اسلامی کے سینٹر ڈائریکٹر محبوب الرحمان نے بتایا کہ کہ بی این پی کے لوگ ہماری خواتین کارکنان کو باہر نکال رہے تھے جس پر میں نے انہیں روکا۔ تاہم بعد میں مجھے اطلاع ملیکہ ایک شخص اچانک بیمار ہو کر فوت ہو گیا۔
خولنا علیا مدرسہ کے پرنسپل عبدالرحیم میا نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں پولنگ سینٹر میں ووٹ دینے کے بعد اپنے گھر جا رہا تھا۔ تب میں نے کچھ خواتین کو باہر نکالا اور ان سے صرف اتنا کہا تھا کہ باہر جائیں۔ میں نے کسی کو دھکا نہیں دیا۔
پولیس کے مطابق صبح کے وقت بی این پی اور جماعتِ اسلامی کے حامیوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ ہم موقع پر پہنچے اور دونوں فریقوں کو الگ کیا۔ پھر ایک شخص کو آٹو رکشے میں لے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ یہاں کسی دھکے یا لڑائی کا واقعہ پیش نہیں آیا۔
دوسری جانب انتخابات کے دوران بی این پی کے رہنما طارق الرحمان کے حریف اور جماعت اسلامی کے امیدوار خالد الزمان نے ووٹنگ کے عمل میں بے ضابطگیوں کا الزام سامنے آیا ہے۔
بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے خالد الزمان نے کہا کہ صورتحال اچھی نہیں ہے کیونکہ بغیر پولنگ ایجنٹ کے، الگ کمرے میں کسی نے ووٹ کے کاغذات سیل کر دیے ہیں۔ یہ بالکل مایوس کن ہے۔ ہم امید کر رہے تھے کہ جماعت اسلامی انتخابات جیتے گی، لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تو امیدیں کیسے رکھیں؟
بی این پی کے طلبہ ونگ (بنگلہ دیش جتیو تابی چیٹرہ ڈل) کے رکن زبیر نے اس الزام کے جواب میں کہا کہ صورتحال دو طرفہ ہے اور وہ اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اسے خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ وہ ووٹ سینٹرز پر لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں اور غیر قانونی ووٹ ڈال رہے ہیں۔














