بھارت سے میچ کے بائیکاٹ کا مقصد صرف بنگلا دیش کو عزت دلانا تھا: محسن نقوی
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارتی ٹیم کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا مقصد کسی پر دباؤ ڈالنا یا شرائط منوانا نہیں تھا بلکہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد بنگلا دیش کو عزت دینا تھا۔
محسن نقوی نے منگل کو پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر جو چاہے بات کرے، لیکن پاکستان کی جانب سے اپنے لیے کوئی شرط عائد نہیں کی گئی تھی۔
قبل ازیں انہوں نے کہا تھا کہ اس معاملے پر دوست ممالک کی اعلیٰ قیادت نے بھی رابطہ کیا تھا، مہمان جب گھر آئے تو اس کی عزت کی جاتی ہے اور کئی باتیں بھلا دی جاتی ہیں۔ محسن نقوی نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اور حکومت کسی سے ڈرتے نہیں ہیں۔
دوسری جانب پاک بھارت میچ کے حوالے سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے خاتمے کے بعد دنیائے کرکٹ میں ایک بار پھر سرگرمی لوٹ آئی ہے۔
پاکستان کی جانب سے بائیکاٹ ختم کرنے کے اعلان کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلہ اتوار کو کولمبو میں ہوگا۔
اس فیصلے پر سری لنکا کے صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔
سری لنکن صدر انورا کمارا نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ہم سب کا پیارا کھیل جاری رہنا چاہیے، جبکہ وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوطی کی علامت قرار دیا۔
بھارتی کرکٹ بورڈ نے بھی پاکستان کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ بھارتی بورڈ کے نائب صدر راجیو شکلا نے کہا کہ یہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی جیت ہے اور آئی سی سی نے معاملے کو اچھے انداز میں حل کیا۔
سابق بھارتی کرکٹر سورو گنگولی کی جانب سے بھی اس فیصلے کو کرکٹ کے لیے مثبت پیش رفت کہا گیا۔ آئی سی سی کے لیے یہ فیصلہ اس لحاظ سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ ممکنہ مالی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
فیصلے کے فوری اثرات خطے میں دیکھنے میں آئے۔ ممبئی سے کولمبو جانے والی پروازوں کے ٹکٹ راتوں رات مہنگے ہوگئے اور بعض صورتوں میں کرایوں میں دو لاکھ پاکستانی روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کولمبو کی ہوٹل انڈسٹری میں بھی غیر معمولی سرگرمی دیکھی گئی جہاں میچ کے اعلان کے بعد بکنگ میں تیزی آگئی۔
بھارتی میڈیا میں اس فیصلے پر مختلف آرا سامنے آئیں۔ بعض چینلز اور تبصرہ نگاروں نے کہا کہ عالمی کرکٹ پاکستان کے بغیر نہیں چل سکتی اور اس فیصلے سے آئی سی سی کو بڑا نقصان اٹھانے سے بچایا گیا، جبکہ کچھ حلقوں نے اسے بھارت کے لیے سفارتی طور پر مشکل لمحہ قرار دیا۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے ورلڈ کرکٹ پاکستان کے بغیر نہیں چل سکتی، پاکستان نے شرائط منوالیں اور آئی سی سی کو جھکا دیا جبکہ ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی ہاتھ ملانا پڑے گا، یہ بھارت کی بے عزتی ہے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بنگلا دیش کو جیت لیا۔
تاہم مجموعی طور پر یہ تسلیم کیا گیا کہ پاک بھارت میچ کی بحالی سے ٹورنامنٹ کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما ششی تھرور نے بھی پاک بھارت میچ کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے کہا کہ کھیل میں سیاست نہیں ہونی چاہیے اور کھلاڑیوں کو کھیلنے دینا چاہیے جبکہ سیاستدان سیاست کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت میچ ہونے سے کرکٹ کو آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔














